کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی” را”کا نیٹ ورک بے نقاب،کئی افراد گرفتار
کراچی: کراچی میں پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را”کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے کئی ملزمان کو گرفتارکرلیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ اور ڈی آئی جی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 18مئی 2025کوبدین کے علاقے ماتلی میں ایک شہری کا قتل ہواجو علاقے میںفلاحی کاموں کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔45سالہ شخص کے قتل میں ملوث 4افراد کو 8 جولائی کو گرفتار کیاگیا اور ملزمان سے تفتیش کے دوران ایک نیٹ ورک کا پتالگایا گیا۔اے آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 3ملزمان کو دیکھا گیا، عینی گواہوں نے بھی ملزمان کو دیکھا، قتل کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والے پستول اور موٹر سائیکل برآمد کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ دوران تفتیش اس بات کا انکشاف ہوا قتل کی منصوبہ بندی سنجے نامی بھارتی ایجنٹ نے کی، حملے کا ماسٹر مائنڈ سنجے سنجیو کمار عرف فوجی ایک خلیجی ریاست میں رہائش پزیر ہے، را کے ایجنٹ نے شیخوپورہ کے رہائشی سلمان ورک کو ہائر کیا جس نے محمد عمیر ورک نامی شہری سے رابطہ کیا جو اس پوری واردات کا کمانڈر تھا اور عمیر نے شکیل احمد، محمد سجاد اور محمد عبید نامی شہریوں کے ذریعے رقم تقسیم کی۔آزاد خان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سنجے کمار سے رابطے میں تھے ، بھارتی خفیہ تنظیم را نے علیحدگی پسند تنظیم کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا۔ حکام نے بتایا کہ دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ محمد ارسلان ولد حبیب احمد نامی پاکستانی شہری بھارتی ایجنٹ سنجے کمار سے خلیجی ریاست میں ملا اور ارسلان نے ہی قتل کے لیے ہٹ ٹیم کو تمام معاشی اور لوجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے بتایا کہ را نے اس واردات کے لیے خطیر رقم خرچ کی اور سنجے نے اس قتل کو بیرون ملک سے ہینڈل کیا، اس قتل پر بھارتی میڈیا نے جشن بھی منایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی دہشت گردی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کہلاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گرفتار ملزمان سے تحقیقات جاری ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔






