مودی کا منی پور کا دورہ محض ایک سیاسی ڈھونگ، ریاست بدستور تشدد کی لپیٹ میں
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کاشورش زدہ ریاست منی پور کا حالیہ دورہ ایک سیاسی ڈھونگ اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں۔ ریاست بدستور تشدد، عدم استحکام اور نسلی تقسیم کی لپیٹ میں ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی ویب پورٹل ” دی وائر “ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ 9 بڑے مسائل مودی کے تاخیر سے کیے گئے مختصر دورے کے باوجود حل نہیں ہو سکے۔ جنسی تشدد اور آتشزدگی کے واضح شواہد کے باوجود مجرم آزاد ہیں اور بی جے پی ریاستی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہے، مئی 2023 میں لوٹے گئے 6 ہزار سے زائد جدید ہتھیار آج بھی واپس نہ مل سکے، منی پور کے ک±کی(عیسائی) متاثرین کو انصاف محض نعروں تک محدود، مرکزی ایجنسیاں جانبدار ثابت ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی 2023 میں لوٹے گئے 6 ہزار سے زائد جدید ہتھیار تاحال واپس نہیں مل سکے، جب کہ جنسی تشدد اور آتشزدگی کے سنگین واقعات کے مجرم اب تک آزاد گھوم رہے ہیں۔ دی وائر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت رٹ قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔منی پور عملی طور پر نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے۔ وادی اِمفال میں میتئی(ہندو) اکثریت اور پہاڑوں میں سکونت پذیر ک±کی(عیسائی) برادری کے درمیان ایک غیر اعلانیہ سرحد بن چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی سرحدی باڑھ مقامی ناگا و ک±کی برادریوں کے ثقافتی رشتے توڑ رہی ہے ،2015 کا ناگا معاہدہ ناکام ہوچکا ہے اور ایک دہائی بعد بھی کوئی حتمی تصفیہ سامنے نہ آیا۔حکومت نے انسدادِ اسمگلنگ پالیسی کے بجائے گروہوں کو "غیر قانونی” اور مجرم قرار دے کر نسلی کشیدگی پیدا کی۔
دی وائر نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ منی پور طویل ترین انٹرنیٹ بلیک آو¿ٹ کا شکار رہا جس سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں چھپائی گئیں، صحافیوں کو خاموش کیا گیا اور تعلیم و صحت کے شعبے مفلوج ہو گئے۔ریاست کے 60 ہزار سے زائد متاثرین اب بھی ریلیف کیمپوں میں بے یارو مددگار ہیں، لیکن حکومت تاحال کوئی واضح بحالی پالیسی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق 2015 کا مودی حکومت کا فریم ورک ایگریمنٹ بھی ایک دہائی بعد محض کاغذی وعدہ ثابت ہوا۔2024 کے پارلیمانی انتخابات میں منی پور کے عوام بی جے پی کو انتخابی شکست دے کر مودی کا غرور خاک میں ملا چکی ہے۔KMS-11/M






