سرینگر جموں شاہراہ کی بندش اور کشمیری کاشتکاروں کو ہونیوالے بھاری نقصانات کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں عوامی اتحاد پارٹی نے سرینگر جموں شاہراہ کی طویل بندش اور پھلوں سے لدے سینکڑوں ٹرک پھنسے سے کشمیری کاشتکاروں کو ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصانات کے خلاف پریس کالونی سرینگر میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشیدسمیت متعد د افراد کو گرفتار کرلیا ۔ ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشید کی قیادت میںعوامی اتحاد پارٹی کے سینکڑوںکارکنوں نے "Save Appleاور Save Kashmir” جیسے نعرے لگاتے ہوئے پر یس انکلیو میں احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہناتھاکہ قابض انتظامیہ جان بوجھ کر وادی کشمیر کی باغبانی کی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ایم ایل اے شیخ خورشیدنے سرینگر جموں ہائی وے کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی اور اسے مقبوضہ کشمیرکی معیشت پر ایک حملہ قراردیا۔انہوں نے کہاکہ باغبانی کی صنعت سے لاکھوں کشمیری خاندان وابستہ ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کشمیری سیب شاہراہ کی مسلسل بندش کی وجہ سے ٹرکوں میں خراب ہورہے ہیں اور یہ مقبوضہ کشمیرپر ایک معاشی حملے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہاکہ قابض انتظامیہ کے کھوکھلے دعوئوں کے ذریعے پھلوں کے کشمیر ی کاشتکاروں کو ہونے والے بھاری نقصانات کو کم نہیں کیاجاسکتا ۔ اس مقصد کیلئے قابض انتظامیہ کو فوری عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے مظاہرے کے دوران بھارتی پولیس کے کریک ڈائون اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ قابض انتظامیہ کشمیری کاشتکاروں کے حق میں آوا ز بلند کرنے والوں کو جبری گرفتار کررہی ہے ۔





