مظاہرے

بڈگام میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کسانوں کا احتجاج

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بڈگام کے علاقے چاڈورہ کے تقریبا دس دیہات کے کسانوں نے دودھ گنگا ندی سے نکلنے والے آبپاشی تین چینلوں کی تباہی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیااور خبردار کیاکہ اگر آئندہ سال مارچ سے قبل آبی کھالوں کو بحال نہ کیا گیا تو ہزار وں کنال سے زرخیز زرعی اراضی کو سیراب کرنے کیلئے پانی دستیاب نہ ہو گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دودھ گنگا ندی کے قریب احتجاج کرنے والے کسانوں نے میڈیا کو بتایا کہ حالیہ سیلاب کے دوران کرالپور کل، مسر کل اور دویان کل نامی تین نالے دریا کے کنارے غیر قانونی کان کنی کے باعث بڑے پیمانے پر کٹائو کی وجہ سے بہہ گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے نالوں بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تووہ اپنے احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہوں گے ۔ایک کسان عبدالرشید شیخ نے بتایاکہ نیشنل گرین ٹربیونل کے احکامات کے باوجود علاقے میں ریت اور چٹان کی غیر قانونی کان کنی گزشتہ پانچ چھ سال سے جاری ہے ۔کسانوں نے کہا کہ اگر بوائی کے آئندہ سیزن سے قبل نہروں کو بحال نہ کیاگیا تو6ہزارکنال سے زائد اراضی بالواسطہ طور پر متاثر ہوگی اور مقامی کاشت کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button