بھارت :ہریانہ کی جیلوں میں اقلیتوں، پسماندہ طبقوں کے قیدیوں کی شرح آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے: رپورٹ
چندی گڑھ:
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ ہریانہ کی جیلوں میں بند قیدیوں میں درج فہرست ذاتوں (SCs)اور مسلمانوں کی شرح ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے جس سے بھارت میں سماجی، اقتصادی اور نظامی عدم مساوات کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 31دسمبر 2023تک ہریانہ کی جیلوں میں بند 25,833 قیدیوں میں سے 7,393یعنی (28.6%)کا تعلق درج فہرست ذاتوں سے تھا جبکہ3,502 یعنی (13.6%)مسلمان تھے جبکہ ریاست میں ان کی آبادی کی شرح بالترتیب 20.2%اور 7% ہے۔اس سے جیلوں میں بندپسماندہ گروہوں کی حد سے زیادہ تعداد کے رجحان کی عکاسی ہوتی ہیں اوریہ رحجان پورے بھارت میں دیکھا جاتا ہے۔درجہ فہرست ذاتوں کے قیدیوں میں1,496سزایافتہ ، 5,868زیر سماعت اور 29 نظربند تھے جن میں سے صرف زیرِ سماعت کی شرح 30فیصد بنتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں 768سزایافتہ ، 2,548زیر سماعت اور 186نظربند تھے۔ہریانہ میں تمام نظربندوں کا 75 فیصدمسلمان ہیں۔امبالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ورون چودھری نے کہا کہ اعداد و شمار درجہ فہرست ذاتوں کے غریب سماجی اقتصادی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں مناسب قانونی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔اسی طرح کے خدشات کااظہار نوح کے رکن اسمبلی آفتاب احمد نے کیا کہ مسلمانوں کی غیر متناسب طور پر زیادہ تعداد نوکریوں کی کمی، ناقص تعلیم اور ناکافی قانونی مددکی نشاندہی کرتی ہے جو نظامی غفلت کی وجہ سے بہت سے چھوٹے جرائم پر مجبور ہیں۔دیگر کمیونٹیز کے قیدیوں کی تعداد بھی ریاست میں ان کی آبادی کے شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ جیلوں میں سکھ قیدیوں کی شرح 8.1%ہے جبکہ آبادی میں ان کی شرح 4.9% ہے جو تقریباً دوگنابنتی ہے۔ عیسائی ریاست کی آبادی کا صرف 0.2%ہونے کے باوجودقیدیوں کی شرح 0.6% ہے۔ اس کے برعکس ریاست کی کل آبادی کے 87.5فیصد کے مقابلے میں ہندو قیدیوں کی شرح صرف 76.8فیصد ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف کریکشنل ایڈمنسٹریشن چندی گڑھ میں تربیت اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اپنیت للی نے کہا کہ جیلوں میں درج فہرست ذاتوں اور مسلمانوں کی زیادہ نمائندگی صرف ہریانہ میں نہیں بلکہ یہ ملک گیر رحجان کا حصہ ہے جس کی وجہ غربت، تعلیم کی کمی اور ناقص قانونی امدادہے۔ ملکی سطح پردرج فہرست ذاتوں کی آبادی بھارت کی آبادی کا صرف 16.6%ہونے کے باوجودجیلوں میںقیدیوں کی شرح 20.3% ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا 14.2%ہے اورقیدیوں کی شرح 17.5% ہے جو بھارت کے نظام انصاف میں بڑے پیمانے پرساختی عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔






