لیہہ احتجاج پر کریک ڈاؤن: سابق بھارتی فوجی پر تشدد، جھوٹے ملک دشمن الزامات عائد

لیہہ: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر کے خطہ لداخ کے علاقے لیہ میں 24 ستمبر کو بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار افراد کے ساتھ ناروا سلوک اور تشدد کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں ایک سابق بھارتی فوجی پر بدترین جسمانی و ذہنی تشدد شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 42 سالہ سابق فوجی ٹنڈپ نمگیال، جنہوں نے 17 سال بھارتی فوج میں خدمات انجام دیں۔ نمگیال سیاچن گلیشیئر، بھارت چین سرحد اور 2011ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ نمگیال کو محض ایک آڈیو پیغام شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ یہ پیغام سابق فوجیوں کے واٹس ایپ گروپ میں لیہہ میں جاری بھوک ہڑتال سے متعلق تھا۔
نمگیال نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ دورانِ حراست پولیس نے ان پر بے رحمی سے تشدد کیا اور انہیں ‘غدار’ قرار دے کر پاکستان، چین اور سونم وانگچک سے فنڈز لینے کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے 17 سال ملک کی خدمت کی، مگر آج اپنے ہی ملک میں غداری کے طعنے سننے پڑ رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ لداخ میں جمہوریت کی روح مر چکی ہے اور عوام کے جائز مطالبات کو دبایا جا رہا ہے۔ نمگیال نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کے چار نکاتی مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے تاکہ خطے میں امن و اعتماد بحال ہو سکے۔






