بھارت

جے شنکر ، امیر خان متقی کی ملاقات، بھارت افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کی بحالی کیلئے کوششاں

اسلام آباد:بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اور افغان وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان نئی دلی میں اہم ملاقات ہوئی۔ 10 اکتوبرکو ہونے والی اس ملاقات سے دونوں ملکوں کے تعلقات کی ایک نئی شروعات ہوئی ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جے شنکر اور امیر خان متقی کی یہ ملاقات اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے اور خطے میں اپنی کمزور پوزیشن کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنوبی ایشیا کے کئی ممالک اب بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں اور اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔اس صورتحال میں افغان وزیر خارجہ کا دورہ بھارت انتہائی حیرا ن کن ہے ۔ بھارت افغان عوام کے ساتھ اپنے گہرے ثقافتی و تاریخی تعلقات کا ذکر کر کے وہاں کی حکومت اور عوام کو لبھانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی بھارتی بیان بازی کا مقصد دراصل افغانستان میں زیادہ سے زیادہ اثر و نفوذ حاصل کرنا ہے اوروہاں کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعما ل کرنا ہے۔ بھارتی خفیہ اداروں کی ماضی میں بھی یہی پالیسی رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیوںنے 2021سے قبل بھی پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرکھا تھا ۔
بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مسلسل راگ الاپ رہا ہے ، وہ پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا مضحکہ خیز الزام لگا رہا ہے حالانکہ یہ بات اب پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے کہ بھار ت نہ صرف مقبوضہ جموںوکشمیر اور پاکستان بلکہ دیگر ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کی کارروائیوںمیں ملوث ہے۔ پاکستان نے ماضی میں افغانستان سے سرگرم متعدد بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی بزدلانہ کارروائیوں میںملوث پائے گئے ہیں۔بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبو ں کی آڑ میں دراصل پاکستان کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کی تکمیل چاہتا ہے۔افغانستان کے صوبے ہرات میں واقع سلمہ ڈیم جسے افغان ،بھارت دوستی ڈیم بھی کہا جاتا ہے ، سوالات کی زد میںآیا ہے ،بھارت کے تعاون و مدد سے بنائے گئے اس ڈیم کی پائیداری پر مقامی افغان آبادی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔
بھارت اگر چہ خود کو کابل کا قابلِ اعتماد شراکت دار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بھارت اور افغانستان میں کسی طور کوئی مماثلت نہیں ہے ۔ افغان کے ساتھ بھارت کی دوستی کے پیچھے صرف اور صرف اسکے مذموم مقاصد کارفرما ہیں .

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button