بھارت میں پسماندہ طبقے کے ایک شخص کوہندو برہمن کے پائوں دھونے اوروہ پانی پینے پر مجبور کیا گیا

بھوپال: بھارت میں ذات پات کی بنیاد پرلوگوں کی تذلیل کے ایک اور واقعے میں ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع دموہ میں پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو ہندو برہمن کے پائوں دھونے اور وہی پانی پینے پر مجبور کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع کے علاقے ستاریہ میں پیش آیا جہاں درجہ فہرست ذات کے ایک نوجوان پرشوتم کشواہا نے ایک مقامی برہمن انو پانڈے کی اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کی تھی جس میں اس نے جوتوں کا ہار پہناتھا۔اس واقعے پر گائوں کی پنچایت بلائی گئی اور کشواہا کوپنچایت میں پانڈے کے پائوں دھونے اور وہ پانی پینے پر مجبورکیاگیا اور 5,100روپے کا جرمانہ کیاگیا۔اس توہین آمیز سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس سے لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ بعد میںمتاثرہ شخص ایک اور ویڈیو میں معافی مانگتے ہوئے دیکھا گیا جس میں وہ درخواست کررہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان دبائو کے تحت دیا گیا ہے۔پولیس نے چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔کانگریس پارٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر دھبہ قرار دیا اورکہا کہ یہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے تحت بھارت میں ذات پات کے جبر اور نسل پرستی کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ پارٹی نے کہاکہ ملک کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے آئین کے تحت چلایا جانا چاہیے، آر ایس ایس کے منو وادی نظریے سے نہیں۔اس طرح کے واقعات بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق، تذلیل اور تشدد کو نمایاں کرتے ہیں جو جمہوریت کے بلندو بانگ دعوئوں کے باوجود اس معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہیں۔







