لبریشن فرنٹ کی یاسین ملک کے مقدمے میں تاخیری حربے اپنانے کی مذمت
اسلام آباد: جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے اپنے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں جاری مقدمے میں تاخیری حربے آزمانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے محمد یاسین ملک کو ایک جھوٹے مقدمے میں دی گئی عمرقیدکی سزاکو سزائے موت میں تبدیل کرانے کے لئے دہلی ہائی کورٹ میںدرخواست دائر کی ہے۔محمد یاسین ملک نے گزشتہ روز تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ جب سے این آئی اے نے ان کی سزائے موت کی درخواست عدالت میں دائر کی ہے وہ مسلسل نفسیاتی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ یاسین ملک نے این آئی اے کی جانب سے استعمال کیے جانے والے تاخیری حربوں کو بھانپتے ہوئے عدالت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس کیس کا فیصلہ سنائیں۔عدالت نے مقدمے کی سماعت 28جنوری 2026تک ملتوی کر دی۔ لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے ایک بیان میں کل سماعت کے دوران این آئی اے کی طرف سے ان کیمرہ عدالتی کارروائی کی درخواست پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی طرف سے اس عرضی کا مقصد کیس کے حقائق کو چھپانا اور یاسین ملک کو انصاف سے محروم کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس قسم کی درخواست کی منظوری دراصل حکومت کی یکطرفہ کاروائی کے لئے راہ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔رفیق ڈار نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے قید تنہائی اور تہاڑ جیل میں ناکافی طبی سہولیات نے یاسین ملک کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔






