مودی سرکار کی کینیڈا اور امریکا میں مبینہ مداخلت پر نئے انکشافات
یہ سفارت کاری نہیں، یہ سرحد پار دہشت گردی ہے، ماہرین
اوٹاوا:
کینیڈا اور امریکا میں مودی کی بھارتی حکومت کی مبینہ مداخلت پر نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں کہاگیاہے کہ انٹرسیپٹڈ کمیونی کیشنز میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب بین الاقوامی سرحدوں کو پار کر چکی ہے۔ بھارت میں انتہا پسند ہندوتوا سوچ نے ریاستی اداروں کو زہریلا کر دیا ہے۔مودی،امیت شاہ قیادت کے دور میں بھارت ایک غیر ذمہ دار اور جارح ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت بیرون ملک مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کیلئے خفیہ کارروائیوں میں ملوث پائی گئی۔ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل اور امریکا میں ناکام حملے کا الزام بھارتی ایجنسیوں پر عائد کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سفارت کاری نہیں، یہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔ بھارت اب اپنے ناقدین اور اقلیتوں کو بیرون ملک بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کے بڑھتے ہوئے ریاستی تشدد پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بھارت بین الاقوامی دہشت گردی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔






