ریاست کے حقوق، وسائل چھیننے کو برداشت نہیں کریں گے:وزیر اعلیٰ پنجاب بھگونت سنگھ مان کا دہلی کو انتباہ
امرتسر: بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے کہا ہے کہ ریاست نئی دہلی کی ایماء پرہمسایہ ریاستوں ہریانہ، راجستھان اور ہماچل پردیش کی طرف سے پنجاب کے وسائل چھیننے یا اس کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھگونت مان نے بھارتی وزیر داخلہ کی زیر صدارت ناردرن زونل کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مخالفت نے نئی دہلی کو پنجاب سے متعلقہ 28میں سے 11آئٹمز پر فیصلے موخر کرنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہاکہ زیادہ ترمعاملات پر دہلی نے موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔بھگونت مان نے کہاکہ چندی گڑھ ایڈمنسٹریشن سروس میں پنجاب-ہریانہ کے لئے 60:40کے تناسب کو بحال کرنے کا ہمارا مطالبہ ہماچل پردیش کے غیر متوقع طور پر 7فیصد حصے کے دعوے کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا گیا۔پنجاب نے ستلج-یمونا لنک کینال کے تحت پانی کی تقسیم، بھاکڑا مین لائن پر چھوٹے پن بجلی منصوبوں پر پابندی اور ہریانہ کے کالجوں کو پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ کی منظوری کے ہریانہ کے مطالبات کی مخالفت کی۔انہوںنے بھاکرا بیاس مینجمنٹ بورڈ میں راجستھان کی مجوزہ تقرری پر بھی اعتراض کیا جہاں پہلے سے ہی راجستھان اور ہماچل پردیش کے نمائندے موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس کوئی اضافی پانی نہیں ہے۔ پنجاب ہیڈ ورکس کا بیرونی کنٹرول ناقابل قبول ہے۔بھگونت مان نے مطالبہ کیا کہ چندی گڑھ کو مکمل طور پر پنجاب کے حوالے کیا جائے اور اندرا گاندھی معاہدے (1970)اور راجیو-لانگووال معاہدے (1985)کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ کے انتخابات کا مطالبہ کیا۔






