ایئر انڈیا طیارہ دانستہ طورپر گرایا گیا، دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں اہم انکشاف
12جون کوطیارہ حادثے میں 260افراد ہلاک ہوگئے تھے
نیویارک:
امریکی تحقیقاتی اداروں اور سابق سی آئی اے اہلکاروں نے کہا ہے کہ بھارت نے ایئر انڈیا کے احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا اور متعدد اہم شواہد تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رواں سال 12جون کو اس حادثے میں 260افراد ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی صحافی اور سابق سی آئی اے اہلکار سارہ ایڈمز نے دعویٰ کیاہے کہ امریکی تفتیشی ٹیم کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثہ پائلٹ کی ممکنہ لاپرواہی کے باعث پیش آیا تاہم بھارتی حکام اب بھی بلیک باکس ڈیٹا تک مکمل رسائی دینے سے گریزاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حادثے کی وجہ پائلٹ کی غلطی تھی، تو بلیک باکس ڈیٹا چھپانا کسی صورت بھی خودمختاری نہیں بلکہ مبینہ طور پر سکیورٹی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔امریکی جریدے دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ایرو اسپیس ماہرین کے مطابق طیارے کی تباہی میں انسانی مداخلت کا امکان موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق بلیک باکس ڈیٹا میں یہ بھی ظاہر ہواہے کہ کاک پٹ میں موجود کسی فرد نے انجن کا فیول سپلائی سسٹم خود بند کیا تھا۔رپورٹ مزید کہاگیا ہے کہ امریکی تفتیشی ٹیم کو حادثے کے ملبے کی تصاویر لینے سے روکا گیا اور کچھ شواہد ان کے پہنچنے سے پہلے ہی غائب کیے گئے۔ علاوہ ازیں بھارتی حکام نے ماہرین کو کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا کے مکمل تجزیے تک رسائی بھی نہیں دی۔دی ٹیلی گراف اور وال اسٹریٹ جرنل دونوں روناموں نے اپنی رپورٹس میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔امریکی اداروں کے مطابق بھارتی عدالتوں اور تفتیشی نظام کی شفافیت پر اعتماد نہ کیے جانے سے تحقیقات مزید مشکوک ہوگئی ہیں اور حادثے کی اصل وجوہات کے تعین کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید شفافیت ضروری ہے۔




