نتیش کمار کی طرف سے مسلم خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے کی شدید مذمت
وزیراعلیٰ کا رویہ اور اسکے ساتھیوں کی طنزیہ مسکراہٹیں ذلت آمیز اور خوفناک تھیں، فاروق رحمانی
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خوفناک، انتقامی، نفرت انگیز اور مسلم مخالف اقدام قرار دیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے پرپوری مسلم دنیا میں شدید غم وغصہ پایاجاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا رویہ اور اس کے ساتھیوں کی طنزیہ مسکراہٹیں ذلت آمیز اور خوفناک تھیں۔ انہوں نے حجاب کے خلاف عوام کے احتجاج کا مذاق اڑانے پربی جے پی کے اتحادی وزیر سنجے نشاد کی مذمت کی اور اس کے ریمارکس کو "گمراہ اور گھٹیا” قرار دیا۔فاروق رحمانی نے کہاکہ مودی کے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاںجاری ہیں ۔ ایک مسلم نوجوان پرہندوتوابلوائیوں نے سرعام حملہ کر کے اسکے کپڑے اتارنے کے بعد اس پر وحشیانہ تشدد کیا گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں خصوصا کشمیری طلبا اور تاجروںپر اس طرح کے حملے ایک معمول بن گئے ہیں۔فاروق رحمانی نے بی جے پی حکومت کے اسلام دشمن اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے او آئی سی، عرب ممالک اور انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں پربھارتی وزرا کے اسلام مخالف رویے کافوری نوٹس لینے پرزوردیا۔انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمارسے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔






