APHC-AJKآزاد کشمیر

حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کا بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر سیمینار کا انعقاد

 

اسلام آباد:  کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ پیدائش پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ کنوینر غلام محمد صفی کی زیر صدارت ہونے والے سیمینار کے مقررین نے قائد اعظم کے سیاسی نظریے، اصول پسندی اوردوراندیشی پر روشنی ڈالی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غلام محمد صفی نے قائد اعظمؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان کا فرمان ہے کہ پاکستان کا قیام محض جغرافیائی حصول نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فلاحی تصور پر مبنی ریاست کا قیام ہے جس کی بنیاد انصاف، مساوات اور انسانی وقار جیسے آفاقی اصولوں پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کا وژن آج بھی خطے میں امن، بقائے باہمی اور انصاف کے فروغ کے لئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کا آئینی طرزِ فکر اور اصول پسندی برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، بانی پاکستان کا طرزِ سیاست اپنے بنیادی حقوق کیلئے سرگرم دنیا کی مظلوم اقوام کے لئے امید اور رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔
سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ انتہائی زیرک اور دور اندیش رہنما تھے جنہوں نے انتھک محنت اور بے مثال استقامت کے ساتھ مسلمانان برصغیر کی رہنمائی کی اور انہیں ایک پرچم تلے یکجا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کا یہ واضح اور اصولی موقف کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، برصغیر کے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ قائد اعظم کی تقاریر ، بیانات اور فرمودات ہمیشہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مظہر رہے جن میں کسی قسم کا ابہام نہیں پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1945میں سرینگر میں قائداعظم کا تاریخی استقبال اس بات کا عکاس تھا کہ کشمیری عوام ان کے نظریے،انکی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے تھے تاہم تقسیمِ برصغیر کے دوران رونما ہونے والی پیچیدہ سیاسی صورتحال اور سازشوں کے باعث ریاست جموں و کشمیر ایک طویل تنازع کا شکار ہوگئی جس کے اثرات آج بھی کشمیری عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ اور پ±رامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔حریت رہنما شمیم شال نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ خواتین کو معاشرتی اور قومی ترقی کا ایک اہم ستون سمجھتے تھے۔ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی تحریک پاکستان میں عملی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بانی پاکستان خواتین کے فعال اور باوقار کردار کے قائل تھے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں اور موجودہ دور میں بھی خواتین کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔سیمینار میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں اور کارکنان کے علاوہ سماجی اور میڈیا حلقوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔سمینار میں غلام محمد صفی ، محمد فاروق رحمانی اور شمیم شال کے علاوہ محمود احمد ساغر ، سید یوسف نسیم ، پرویز احمد ، سید فیض نقشبندی، میر طاہر مسعود ،محمد الطاف بٹ،شیخ محمد یعقوب ،حاجی محمد سلطان ،سید اعجاز رحمانی ،داود خان،زاہد اشرف،زاہد صفی، میاں مظفر ،امتیاز وانی، شیخ عبد الماجد ،نزیر کرنائی،سید کفایت حسین،محمد شفیع ڈار ،محمد اشرف ڈار،سید گلشن، زاہد مجتبیٰ،عبد المجید میر،،شوکت بٹ،امتیاز بٹ،عبدالرشید بٹ، قاضی عمران رئیس میر،خالد شبیر،شوکت ابوزر اور دیگر شامل تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button