آسام میں انسداد تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے 1200مکانات مسمار کردیے گئے
گوہاٹی : بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست آسام کے ضلع سونیت پور میں حکام نے انسداد تجاوزات کی آڑ میں مسلمانوں کے تقریبا 1,200مکانات مسمارکردیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم تیز پور صدر اور ڈھکیاجولی کے علاقوں جموکٹول، ارماڑی، سیالیچار، باگھیٹاپو، گلاٹیڈوبی، لاٹھیماری، کنڈولیچار، پوربا ڈوبراماری اور بارہ ماڑی میں چلائی گئی جہاں مسلمانوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا گیا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ مسمار کیے گئے مکانات تجاوزات کرکے برہچاپوری وائلڈ لائف سینکچری کے اندربنائے گئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سینکچری کے اندر زمین پر فصلیں کاشت کی جا رہی تھیں۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ان کے آباو اجداد کئی دہائیوں سے اس خطے میں آبادتھے جن میں سے کچھ لوگوں نے دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے اپنی زمینیں کھوئی تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام کے اقدامات ریاست میں مسلمانوں کو پسماندہ اور بے گھر کرنے کی وسیع تر اورمنظم کوششوں کا حصہ ہیں۔تجاوزات کے دعوئوں کے باوجود بے گھر ہونے والے خاندانوں کا استدلال ہے کہ تاریخی طورپر وہ علاقے کے باشندے ہیں اوران کے آباو اجداد بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے جو دریائے برہم پترا میں کٹائو کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔بے دخلی اورمسماری کی مہم کئی بارپر تشدد صورتحال کا رخ اختیارکرچکی ہے۔ 17جولائی کو ضلع گول پاڑہ میں کرشنائی کے علاقے ودیاپاڑہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے مسلم خاندانوں پر گولی چلائی جس میں ایک 19سالہ مسلم نوجوان جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی کارکنوں نے آسام کی بے دخلی مہم میں مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔






