جموں

جموں خطے کے تاجروں نے ”علیحدہ جموں ریاست” کا مطالبہ مسترد کردیا

بی جے پی کے ارکان اسمبلی فرقہ وارانہ سیاست کی بجائے عوامی فلاح وبہبود پر توجہ دیں، تاجر برادری

جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جموں خطے کے تاجروں اور کاروباری نمائندوں نے ”علیحدہ جموں ریاست” کے مطالبے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اورتجارت کمزور ہوگی ۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تجارتی برادری کے ارکان نے کہا کہ جموں کے پا س ناکافی وسائل ہیں اور وہ پہلے ہی گھٹتی ہوئی کاروباری سرگرمیوں، سیاحت کی عدم موجودگی اور محدود سرکاری امداد کی وجہ سے معاشی پریشانی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر سے علیحدگی ان چیلنجوں میں مزید اضافہ کرے گی اور تاجروں کو شدید مشکلات میں دھکیل دے گی۔تاجروں کا کہنا تھا کہ جموں کا وادی کشمیر کے ساتھ معاشی تعلق تاریخی طور پر دونوں خطوں کے لیے فائدہ مند رہا ہے اور تجارت سیاحت اور روزگار کے حوالے سے دونوں علاقوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ علیحدگی سے اس توازن کو نقصان پہنچے گا۔تاجروں نے پورے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی ہی علاقائی شکایات کو دور کرنے کا واحد قابل عمل حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کو پہلے ہی جموں وکشمیرسے چھین لیا گیا ہے اور اب مزید تقسیم صرف خطہ کو کمزور کرے گی۔ تاجروں نے نومنتخب ارکان اسمبلی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کی ذمہ داری منتخب نمائندوں کی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے تفرقہ انگیز بیان بازی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے جموںوکشمیرکی اسمبلی میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے 29 ارکان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے اان پر زور دیا کہ وہ فرقہ وارانہ سیاست میں ملوث ہونے کے بجائے معاشی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود پر توجہ دیں۔ تاجروں نے کہا کہ ہم تقسیم کی سیاست کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اتحاد، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں.

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button