پاکستان

جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے

نیویارک:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے واضح کیاہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جنرل اسمبلی میں پاکستانی مندوب آصف خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی مندوب کے ناقابل قبول اور بے بنیاد دعوئوں پر اپنے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مظلوم کشمیریوں کو محکوم رکھنے کیلئے بھارتی قابض فورسز انہیں مسلسل ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںکا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نوآبادیاتی ممالک اور عوام کو آزادی دینے سے متعلق اعلامیہ میں واضح طور پرتوثیق کی گئی ہے کہ حق خود ارادیت تمام اقوام کا بنیادی حق ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادوں کے ذریعے جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے اور واضح طور پر طے کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت نے نہ صرف ان فیصلوں کو قبول کررکھا ہے اور وہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 25 کے تحت بھی ان پر عمل درآمد کا پابند ہے۔انہوں نے کہاکہ5اگست 2019 کوجموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے بعد بھارت مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑکر اسے ایک مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی خطے میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی صریح اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔آصف خان بھارتی مندوب کو مشورہ دیا کہ وہ جنرل اسمبلی میں حقائق کے منافی بیانات دینے سے قبل جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کے سرکاری نقشوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا بغور مطالعہ کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button