بھارت امریکی دبا ئوپر”بریکس”نیول مشق سے غیر حاضر، خارجہ پالیسی بے نقاب

نئی دہلی: بھارت کو جنوبی افریقی پانیوں میں ”بریکس”نیول مشق میں غیر حاضری کی وضاحت کرنی پڑی جس سے ظاہر ہوا کہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی بیرونی دبا ئواور مغربی مفادات کے تابع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام امریکہ کے دبائو میں سامنے آیا، جو ”بریکس”کے ممالک چین، روس اور ایران کو ایک ایسا حریف بلاک سمجھتا ہے جو واشنگٹن کی عالمی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق9 سے 16 جنوری 2026 تک جنوبی افریقہ کے پانیوں میں منعقد ہونے والی مشق ”امن 2026 کے لیے”کا آغاز جنوبی افریقہ نے کیا جس میں چین، روس اور ایران سمیت منتخب ”بریکس”اراکین نے حصہ لیا۔ بھارت نے ”ادارہ جاتی منظوری”کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے شرکت سے گریز کیا۔ جس سے بریکس گروپنگ میں بھارت کی وابستگی پر سوالات اٹھے، حالانکہ وہ اس تنظیم کی صدارت سنبھال رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کا موقف ماضی کے معمولات کے مطابق ہے: بریکس بحری مشقوں میں شرکت کسی رسمی ادارہ جاتی اقدام کے طور پر لازمی نہیں۔ بھارت کی بنیادی کثیرالجہتی بحری مشق IBSAMAR ہے، جو برازیل اور جنوبی افریقا کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے، جس کا آخری ایڈیشن اکتوبر 2024 میں ہوا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشق کو جنوبی افریقی اقدام کے طور پر پیش کر کے بھارت نے براہِ راست شرکت سے گریز کیا اور بظاہر پروٹوکول کی پیروی کا تاثر دیا۔ تاہم ان کے مطابق نئی دہلی محتاط انداز میں چین اور روس سے تعلقات سنبھال رہا ہے اور امریکی دبا ئوسے بچنے کے لیے ایسے اقدامات سے گریز کر رہا ہے جو واشنگٹن کو ناراض کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ”بریکس” ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرتا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی منتخب شرکت کی حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی علاقائی اثر و رسوخ کے عزائم اور مغربی مفادات کے تابع ہونے کے درمیان پھنس گئی ہے۔ بحری مشق سے غیر حاضری کا اشارہ یہ بھی دیتا ہے کہ بھارت کی BRICS صدارت زیادہ تر دکھاوے تک محدود ہے نہ کہ حقیقی فوجی یا اسٹریٹجک تعاون کے لیے۔یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ نئی دہلی کثیرالجہتی عالمی فورمز میں اتحاد کے بجائے امریکی اور NATO کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دیتا ہے، اور اس بات پر سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا بھارت کثیرالقطبی عالمی نظام میں آزادانہ کردار ادا کر سکتا ہے یا نہیں۔






