مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں پر وحشیانہ حملوں کی مذمت

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماوں نے اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری شال فروش پر ہندو توا غنڈوں کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں اس طرح کے حملے معمول بن چکے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہند و توا غنڈوں نے ایک کم عمر کشمیری شال فروش کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اورلوہے کی سلاخ سے اسکے سر پر وار کیا جس کے نتیجے میں وہ شد ید زخمی ہوا ۔
کانگریس مقبوضہ جموںوکشمیر شاخ کے صدر طارق حمید قرہ نے حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت بھر میں دائیں بازو کے عناصر کی مسلسل مہم کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ صرف دو یا تین ریاستوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے بھارت میں اس طرح کے حملے ہو رہے ہیں تاہم بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ان کا گراف زیادہ ہے۔ مقبوضہ جموںوکشمیر اسمبلی کے رکن شبیر احمد کلے نے بھی حملہ کی مذمت کی اور اتراکھنڈ حکومت سے مجرموں کیخلاف سخت کارروائی کی اپیل کی۔
کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جہاں بھی بی جے پی اقتدار میں ہے، کشمیری نوجوانوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، بدسلوکی کی جاتی ہے اور ہندو نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حملہ آوروںکو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجمان زہیب یوسف نے کہا کہ کشمیری نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے محنت مشقت کیلئے بھارتی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ وہاں انہیں محض کشمیری اور مسلمان ہونے کی بنا پر مارا پیٹا جاتا ہے ، ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور ‘وندے ماترم’ یا ‘جئے شری رام’ جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button