اسلام آباد:
بھارتی آرمی چیف جنرل اپندرہ دِوی ویدی کاحالیہ بیان گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے خلاف اپنی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کے ہاتھوں شرمناک شکست کو چھپانے اور کنٹرول لائن پر زبردستی "نیو نارمل” نافذ کرنے کی بے سودکوشش ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے 13جنوری کی سالانہ پریس کانفرنس میں ناکام "آپریشن سندور” میں مبینہ طورپر22منٹ میں 100پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کادعویٰ جھوٹ کا پلندہ ، بے بنیاد ارومضحکہ خیز ہے ۔ ماہرین اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق حقیقت میںبھارت کی طرف سے نہ تو22منٹ کی کوئی کارروائی کی گئی تھی اورنہ ہی اس میں100پاکستانیوں کی شہادت کا کوئی ثبوت موجود ہے ۔ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے کنٹرول لائن پر چھ اور انڈین بارڈر پر دودہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کے الزامات کو جھوٹ قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کی طرف سے پاکستان پر پیشگی حملے کا جواز پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا پاکستان اور چین کی طرز پر راکٹ فورس کا منصوبہ ہمسایہ جوہری طاقتوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی ایک کوشش ہے ۔ ماہرین نے مارچ 2022میں بھارت کی طرف سے مبینہ طورپرغلطی سے پاکستان میں براہموس میزائل فائرکرنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بھارت پناکا، پرلائے اور برہموس میزائلوںکو ایک کمانڈ میں شامل کررہا جہاں ایک چھوٹی غلطی بھی جوہری تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی-چینی اقتصادی اور سلامتی کمیٹی کی 2025کی رپورٹ میں چار روزہ جنگ کے دوران بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی واضح کامیابی کا اعتراف کیاگیاہے ۔رپورٹ میں پاکستانی شاہینوں کی طرف سے جنگ میں رافیل سمیت بھارتی طیاروں کا مار گرانے کی تصدیق کی گئی ہے ۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ بھی بارہا بھارت کی درخواست پر جنگ رکوانے، جنگ کے دوران لاکھوں جانیں بچانے کے اعلانات کے علاوہ پاکستان کی سول و فوجی قیادت کی تعریف کرچکے ہیں ۔ انہوں نے متعدد بار پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کے 8طیارے مار گرانے کی بھی تصدیق کی ہے ۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ زبردستی پر مبنی کوئی "نیو نارمل”نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ، بھارت کے جوہری خطرات کو ناکام بنانے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پر عزم ہے۔








