بھارت

اتراکھنڈ میں بھارتی وزیر کی موجودگی میں ہندو انتہاپسند کی مسلمانوں کو دھمکیاں

دہرادون :بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے الموڑا میں بھارتی وزیر کی موجودگی میں ایک ہندو انتہاپسند نے مسلمانوں کو دھمکیاں دیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہندو انتہاپسند بھارتی وزیر مملکت اجے ٹمٹا کی موجودگی میں ایک عوامی جلسے کے دوران لوگوں کومسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسارہاہے اور دھمکیاں دے رہاہے۔دھمکیاں دینے والے ہندو انتہاپسند کی شناخت لال بابا کے نام سے کی گئی ہے جسے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے اور اشتعال انگیز اورتوہین آمیز باتیں کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔مسلمانوں کوجہادی ذہنیت کا حامل قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اتراکھنڈ چھوڑ دیں ورنہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا۔ایک مقامی کمیٹی کی طرف سے ”بھاویہ ہندو سمیلن“ کے بینر تلے منعقد کئے گئے پروگرام کو مسلم کمیونٹی اور سول سوسائٹی کی تنظیموںنے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان براہ راست تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مذکورہ شخص کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایک مقامی مسلمان نے کہاکہ یہ صرف نفرت انگیز تقریر نہیں ہے بلکہ ہماری جانوں اور عزتوں کے ساتھ کھلواڑہے۔ ایسے بیانات سے عام شہریوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ ہندو انتہاپسند جب مسلمانوں کودھمکیاں دے رہاتھا تو بھارتی وزیر مملکت اجے ٹمٹا سٹیج پر موجود تھے۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ تقریر کے دوران فوری طور پر کوئی اعتراض کیوں نہیں کیاگیا۔ انہوں نے وزیر سے اس بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔ الموڑہ سمیت اتراکھنڈ کے دیگر مقامات پر مسلمانوں نے شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کئی تنظیموں نے نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے کے حوالے سے قوانین کے تحت مقدمے کے اندراج کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہااگر اس طرح کی تقاریر کو نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔ پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی تفتیش شروع کی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button