فرقہ پرست مودی کے بھارت میں انسانی امداد بھی مذہبی شناخت سے مشروط
بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر باعث تشویش
اسلام آباد:
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں بڑھتے ہوئے مذہبی امتیاز سلوک کے تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اب بنیادی انسانی امداد بھی مذہبی شناخت کے پیمانے پر پرکھی جا رہی ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق22فروری بروز اتوارکو ریاست راجستھان کے شہر ٹونک میں ہندوتوا بی جے پی لیڈر سکھبیر سنگھ جونپوریا کی طرف سے کمبل تقسیم کرنے کی ایک تقریب کے دوران ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیاہے ۔ اطلاعات کے مطابق بعض مسلم خواتین سے ان کے ناموں سے مذہبی شناخت ظاہر ہونے پر مبینہ طور پر کمبل واپس لے لیے گئے۔ ان خواتین میں بزرگ مستحقین بھی شامل تھیں۔ اس واقعے پر کانگریس رہنما سچن پائلٹ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیاہے۔مبصرین کے مطابق مسلمانوں سے امتیاز کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ لکھنو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ہندوتوا طلبہ نے مسلم طلبہ کی طرف سے روزہ افطار کرنے اور نمازپڑھنے کے بعد گنگا جل چھڑک کر اس جگہ کو پاک کرنے کی کوشش کی، جس پر شدید تنقید کی جارہی ہے ۔ اسی طرح رودر پور میں ایک مسلمان مزدور کو کھلے میدان میں نماز ادا کرنے پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مارچ 2024 میں گجرات یونیورسٹی میں رمضان المبارک کے دوران نمازادا کرنے والے مسلمانوں پر ہندوتوا بلوائیوں کے حملے کی خبر منظرعام پر آئی تھی۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال رتناگیری میں تراویح کی نماز کے دوران ایک مسجد میں خلل ڈالا گیا جبکہ رواں سال مالیگائوں میں میونسپل دفتر کے اندر نماز کی ادائیگی پر بی جے پی کے بعض رہنمائوں نے اعتراض کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مودی کے بھارت میں امدادی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور سرکاری دفاتر تک رسائی بتدریج مذہبی شناخت سے مشروط ہوتی جا رہی ہے، جس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ اور بیگانگی کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔








