بھارت

راجستھان: میواڑ یونیورسٹی میں احتجاج پر متعدد کشمیری طلبا گرفتار

چتور گڑھ:بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے متعدد کشمیری طلبا کو گرفتار کر لیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی ایس سی نرسنگ کے کشمیری طلبا نے اپنے سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے یونیورسٹی کے باہر احتجاج کیا۔ یہ طلبا اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ ان کا نرسنگ پروگرام انڈین نرسنگ کونسل اور راجستھان نرسنگ کونسل سے باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے، جس کے باعث ان کی ڈگریوں اور مستقبل کے روزگار کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایک طالب علم کی جانب سے مبینہ خودکشی کی کوشش کی خبر سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جس پر حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پولیس کی بھاری نفری کیمپس میں پہنچی اور احتجاج کرنے والے طلبا کو حراست میں لے لیا، جن میں زیادہ تر کشمیری تھے۔
واضح رہے کہ 12فروری کو بھی 33کشمیری طلبا کو تین روزہ احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ طلبا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی نرسنگ کورس کے لیے ضروری قانونی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبا کے دو مختلف بیچوں میں 45سے زائد کشمیری طلبا اس مسئلے سے متاثر ہوئے ہیں۔طلبا کا موقف ہے کہ انڈین نرسنگ کونسل اور راجستھان نرسنگ کونسل کی منظوری کے بغیر ان کی ڈگریاں، پیشہ ورانہ رجسٹریشن اور ملازمت کے مواقع خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر چندیکا دتیا کماوت نے کہا کہ نو رکنی معائنہ کمیٹی اپنی رپورٹ وزیر صحت کو پیش کر چکی ہے اور این او سی جاری کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم پارلیمانی اجلاس کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے این او سی جاری نہ کرنے پر راجستھان نرسنگ کونسل کے خلاف عدالت میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت جاری ہے۔
ادھر متاثرہ طلبا کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک انہیں این او سی تحریری طور پر فراہم نہیں کر دی جاتی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button