بھارت

بھارت میں گیس کا بحران شدت اختیارکرگیا،دہلی سمیت ملک بھر میں سوئی گیس کی شدید قلت

 

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت میں ایل پی جی گیس کی شدید قلت پیداہوئی ہے جس سے عوامی بے چینی بڑھتی جارہی ہے جبکہ گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی کی کمی سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم دہلی میں ضرورت مند افراد کو پانچ روپے میں دوپہر اور رات کا کھانا فراہم کرنے والی کئی اٹل کینٹین بند ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے گزشتہ سال 25 دسمبر کو جنوبی دہلی کے نہرو نگر کے تاپ کیمپ میں جس پہلی اٹل کینٹین کا افتتاح کیا تھا، وہ سوموار (16 مارچ) دوپہر کو بند تھی۔اخبار کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور کھانا پکانے کے ایندھن کے بحران کی وجہ سے اسے بند کیا گیاہے۔ کچھ ایسا ہی حال کالکاجی اور انا نگر میں واقع کم از کم دو دیگر اٹل کینٹین کا بھی دیکھا گیا۔ کینٹین کے دروازے پر چسپاں نوٹس میں لکھا تھا،’گیس آنے تک کینٹین بند رہے گی۔’دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں بھی گیس سپلائی میں کمی کا اثر اب کیمپس کی کینٹین اور ہاسٹل میس پر نظر آنے لگا ہے۔ گیس کی محدود دستیابی کے باعث کئی جگہ کھانے کے مینو میں تبدیلی کی خبریں سامنے آئی ہیں جس سے طلباءمیں تشویش بڑھ رہی ہے۔جے این یو اسٹوڈنٹ یونین نے سوموار (16 مارچ) کو اس مسئلے کے خلاف مارچ نکالنے کااعلان کیا ۔گردواروں کے لنگر بھی اس بحران سے متاثر نظر آ رہے ہیں۔ دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی نے مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ تاریخی گردواروں میں لنگر سروس کے لیے رسوئی گیس کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رکھی جائے ۔دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی گیس سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سامنے آئی ہے۔ مغربی بنگال سے ایک ویڈیو انسٹاگرام پر وائرل ہو ئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سرکاری اسکول میں گیس کی کمی کے باعث بچوں کو دوپہر کے کھانے میں گول گپے کھلائے گئے۔ بہار، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں سے بھی رسوئی گیس کی قلت کی شکایتیں سامنے آ رہی ہیں۔ کئی جگہ گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ کہیں کئی دنوں کی بکنگ کے باوجود لوگوں تک گیس نہیں پہنچ پا رہی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button