مقبوضہ جمو ں وکشمیرمیں فوجی کارروائیوں میں تیزی ، اضافی کمانڈوزاہلکار تعینات
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے اپنی ظالمانہ فوجی کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے ایلیٹ کمانڈوز فورس کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے جس سے اگست 2019 میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد علاقے میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی حکومت کے دعوﺅں کی قلعی کھل گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پہاڑی علاقوں، گھنے جنگلات اور برفباری والے علاقوں میں آپریشن کو تیز کرنے کے لیے اسپیشل آپریشنز گروپ کے 350 کے قریب اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق کمانڈوز اہلکاروں نے جنگلوں اور پہاڑی علاقوں میں کارروائی کی خصوصی تربیت حاصل کی ہے اور انہیں عسکریت پسندوں کا پتہ لگانے اور حساس علاقوں میں حالات پر قابوپانے کا کام سونپا گیا ہے۔بھارتی حکام نے نام نہاد دراندازی کو روکنے کی آڑ میں بین الاقوامی سرحد پربھی پیرا ملٹری فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تربیت یافتہ فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی سے مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں بھارت کشمیری عوام کی جائز امنگوں کو دبانے کے لیے فوجی طاقت پر انحصار کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2019 میں دفعہ370 کی منسوخی کے بعد نئی دہلی کے امن واستحکام کے دعوﺅں کے باوجود فوجی آپریشنوں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور انسداد بغاوت کے اقدامات میں تیزی لائی گئی ہے جس سے علاقے میں خوف وہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ماہرین نے کہا کہ فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجوگی ،مقامی پولیس کی فوجی یونٹوں میں خصوصی تربیت اور اضافی فورسز کی مسلسل تعیناتی سے علاقے میں بھارتی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاسیہوتی ہے۔ان کا کہناہے کہ اگر صورت حال واقعی معمول کے مطابق ہوتی تو اس طرح کے جارحانہ اقدامات اور جنگ جیسی تیاریوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔







