مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے کشمیری کو عدالت نے28 سال بعد مردہ قراردےدیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کی ایک عدالت نے بھارتی فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے ایک کشمیری عبدالرشید وانی کو تقریباً تین دہائیوں بعد مردہ قرار دے دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بمنہسرینگر سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید وانی کو بھارتی فوج نے گرفتار کیا تھاجس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آیا۔ عدالت نے اب انہیں قانونی طور پر مردہ قرار دیکر اس کی”ڈیتھ سرٹیفکیٹ“ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسپیشل موبائل مجسٹریٹ سرینگر مسرت جبین نے اپنے 13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں وہ درخواست منظورکی جو عبدالراشد وانی کی اہلیہ فریدہ شبنم اور ان کے بیٹوںجنید رشید وانی اور ارسلان رشید وانی نے دائرکی تھی۔عدالت نے متعلقہ حکام خاص طور پر رجسٹرار برتھ اینڈ ڈیتھز کو ہدایت دی کہ عبدالراشد وانی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وانی کو 7 جولائی 1997 کو سرینگر کے علاقے راولپورہ میں بھارتی فوج کی گورکھا رائفلزکے اہلکاروں نے فاروق احمد بٹ کے ہمراہ گرفتارکیا تھا۔ بعد ازاں فاروق احمد بٹ کو رہا کر دیا گیا لیکن وانی کبھی واپس نہیں آئے اور اس تاریخ کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔فیصلے میں کہاگیا کہ تحقیقات سے ظاہرہوتاہے کہ دراصل ملزم (میجر وی پی یادو) نے عبدالراشد وانی کو دوران حراست قتل کیا اور ان کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فیصلے میں میجر وی پی یادو کا نام واضح طور پر درج ہے اور بار بار گورکھا رائفلزکا نام لیاگیاگیا ہے۔یہ کیس 1997 میں دائر کی گئی ایک ہیبیس کارپس پٹیشن سے شروع ہوا تھا جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت ہائی کورٹ میں اس وقت دائر کی گئی جب وانی کا خاندان ان کی رہائی میں ناکام رہا۔ عدالتی احکامات پر سرینگر کے سیشن جج نے انکوائری کی جس کے نتیجے میں پولیس اسٹیشن پارمپورہ میں حراستی گمشدگی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔تاہم خاندان کی قانونی لڑائی صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں تھی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بیوی برسوں تک اس صدمے سے گزرتی رہی جس کے شوہر کو گواہوں کے سامنے حراست میں لیاگیا اور بیٹے اس وقت صرف 10 سے 11 سال کے تھے جب ان کے والد لاپتہ ہوئے تھے۔فریدہ شبنم نے مقدمے کے دوران اپنے حلف نامے میں عدالت کو بتایاآج تک میرے شوہر کا کوئی پتہ نہیں چل سکا، حالانکہ مدعیان نے بے شمار کوششیں کیں۔ میرے شوہر کو لاپتہ ہوئے اب 28 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ان کے بیٹوں نے بھی یہی درد بیان کیا اور عدالت کو بتایا کہ ان کے والد گرفتاری کے بعد کبھی واپس نہیں آئے، جبکہ پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے بھی خاندان کے مو¿قف کی تائید کی۔جج مسرت جبین نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ تمام بیانات بغیر کسی تردید کے ہیں کیونکہ مدعا علیہان کی طرف سے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ عبدالراشد وانی کو کبھی رہا کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ دوسرے زیر حراست شخص (فاروق احمد بٹ) کی رہائی اس بات کو مزید مضبوط بناتی ہے کہ وانی حراست میں ہی رہے اور ان کی گمشدگی اسی حراست کا نتیجہ ہے۔جج نے کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک زیر حراست شخص یعنی فاروق بٹ کو رہا کر دیا گیا، اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ دوسرا شخص یعنی عبدالرشید وانی حراست میں ہی رہا اور اس کی گمشدگی اسی حراست سے جڑی ہوئی ہے۔ عدالت نے اس قانونی اصول کو لاگو کیا کہ اگر کوئی شخص سات سال تک ان لوگوں سے رابطے میں نہ ہو جو عام طور پر اس کے بارے میں سن سکتے ہوں، تو اسے مردہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کے بارے میں سات سال تک کوئی خبر نہیں ملی تو اس کی موت کا قانونی قیاس قائم ہو جاتا ہے۔ مدعا علیہان اس قیاس کو رد کرنے میں ناکام رہے، لہٰذا یہ معاملہ مدعیان کے حق میں طے کیا جاتا ہے۔فیصلے میں عدالت نے کہا کہ خاندان نے مقدمے میں اٹھائے گئے تمام نکات ثابت کر دیے ہیں، جن میں حراست، اس کے بعد گمشدگی، عدالتی انکوائری، ایف آئی آر اور 1997 کے بعد سے کسی بھی قسم کے رابطے کا مکمل فقدان شامل ہے۔عدالت نے کہاکہ تمام شواہدسے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عبدالراشد وانی کو 7 جولائی 1997 کو گورکھا رائفلزنے حراست میں لیا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ عدالتی انکوائری اور پولیس تحقیقات کے باوجود آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ لہذاعدالت عبدالراشد وانی کو مردہ قرار دیتے ہوئے ن کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیتی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں یہ اس طرح کا پہلا کیس نہیں ہے بلکہ ایسے ہزاروں کیسز ہیں جن میں بھارتی فوجیوں نے لوگوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا ہے اورانہیں نہ تو مردہ اورنہ ہی زندہ قراردیاجاسکتا ہے جبکہ ان کے اہلخانہ اورعزیزواقارب مسلسل اذیت کا شکارہیں ۔فردہ شبنم کی طرح سینکڑوں خواتین آج بھی نیم بیوگی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں کیونکہ ان کے شوہروں کو لا پتہ کیاگیا ہے اوران کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button