مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے میاں قیوم کو طبی امداد کی فوری فراہمی کی عرضداشت مسترد کر دی
سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے غیر قانونی طور پر نظر بند سینئر کشمیری وکیل اور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر میاں عبدالقیوم کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود انہیں فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کی عرضداشت مسترد کر دی ہے۔ میاں قیوم 2020سے جھوٹے مقدمات میں جموں خطے کی امپھالہ جیل میں بند ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میاں قیوم کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں ان کی بگڑتی ہوئی حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ایک فون کال کے دوران پیٹ میں شدید درد کی شکایت کی۔ بعدازاں انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں لے جایا گیا، جہاں الٹراساو¿نڈ نے اس کے دائیں گردے میں متعدد سسٹوں کی نشاندہی کی۔
جسٹس وسیم صادق نرگل نے عرضداشت کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 24 فروری 2026 کو اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے پہلے ہی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزجموں کے ڈائریکٹر کو میاں قیوم کا معائنہ کرنے اور مزید علاج کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کر رکھی ہے لہذا کوئی متوازی ہدایات جاری کرنا نامناسب ہوگا۔
میاں قیوم کے کیس کی پیروری سینئر ایڈوکیٹ زیڈ اے قریشی نے کی۔عدالت نے عرضداشت ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خراج کردی۔






