میر واعظ کی شبیر شاہ کے خلاف ایک اورجھوٹا مقدمہ کھولنے کی شدید مذمت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمرفاروق نے عدالتی ضمانتوں کے باوجود سینئرحریت رہنما شبیر احمد شاہ کو رہاکرنے کے بجائے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادار ے ”این آئی اے“ کی طرف سے ان کے کےخلاف 1996کے ایک اور جھوٹے مقدمے میں کارروائی شروع کرنے کی شدید مذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شبیر احمد شاہ کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ 17جولائی 1996کو سرینگر کے شیر گڑھی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہاکہ اپنے سیاسی نظریے کی وجہ سے زندگی کے 39 سال جیل میں گزارنے کے بعد شبیر احمد شاہ اب عمررسیدہ اور شدید علیل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیںایک بار پھر ظلم و ستم کا نشانہ بنایاجارہا ہے جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پالیسیاں نظام انصاف کو مکمل طور پر کمزور کرتی ہیں جس کے تحت ایک کیس کے بعد دوسرا شروع کیاجاتا ہے تاکہ مسلسل قید کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بھارتی حکومت سے اپیل کی کہ وہ شبیر احمد شاہ اوران کے اہلخانہ کے لئے مشکلات نہ بڑھائے اور انہیں رہا کردے۔







