بھارت :پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت نہ ماننے پر بی جے پی حکومت تنقید کی زد میں
اپوزیشن کا سوال، اگر پاسپورٹ ثبوت نہیں تو شہریت کیسے ثابت ہوگی؟

نئی دلی:بی جے پی کی بھارتی حکومت کو اس متنازعہ بیان پر کڑی تنقید کا سامنا ہے کہ بھارتی پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر شہریت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویز قابلِ قبول ہوگی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر سفر اور شناخت کی دستاویز ہے، نہ کہ شہریت کا قطعی ثبوت۔ وزارت نے پاسپورٹ ایکٹ 1967کی دفعہ 20کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض حالات میں غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے، اس لیے حکومت کا یہ موقف نیا نہیں۔یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے” پاسپورٹ سیوا دیوس”کی تقریب میں کہا کہ پاسپورٹ کبھی بھی شہریت کا ثبوت نہیں رہا۔اس بیان پر اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کیاہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ آج بھارت میں شہریت کا واحد ثبوت ہندو ہونا اور بی جے پی کا ووٹر ہونا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے سوال کیا کہ اگر پاسپورٹ، آدھارکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹ اور ووٹر شناختی کارڈ بھی قابلِ قبول نہیں تو پھر شہریت کیسے ثابت کی جائے گی۔راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل، شیو سیناکے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور معروف شاعر جاوید اختر نے بھی مودی حکومت کے موقف پر تنقید کی ہے۔






