19 جولائی کی الحاق پاکستان کی قرارداد کشمیریوں کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے: مقررین سیمینار

اسلام آباد : سنٹر فار ڈویلپمنٹ اینڈ سٹیبلیٹی (سی ڈی ایس) نے کشمیر ہاوس اسلام آباد میں ایک سیمینار کا انعقادکیا جس میں مورخین، پالیسی ماہرین اور دیگرنے شرکت کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیمینار میں 1846 کے معادہ امرتسر سے لے کر 1947 کی تقسیم برصغیرکے واقعات تک جموں و کشمیر کی تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کی رہنما شمیم شال، سینئر صحافی فرحان ورک اور سی ڈی ایس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عرفان اشرف شامل تھے۔ڈاکٹر عرفان اشرف نے کہا کہ سیمینار کا مقصد سیاست یا انتخابات نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ اور اس کے عوام کی قربانیوں کو سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈوگرہ دور حکومت میں کشمیری عوام کو جبر، بنیادی حقوق سے محرومی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس نے سیاسی قیادت کو 19 جولائی 1947 کو الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کو سمجھیں جنہوں نے جموں و کشمیر کے مستقبل کو تشکیل دیا۔مسلم کانفرنس کے سردار نذیر نے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے امن و سلامتی کو برقرار رکھنے پر پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی تعریف کی اور آزاد کشمیر میں مذاکرات، اتحاد اور ترقی پر زور دیا۔بابر خجک نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی ہے اور ان کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے اتحاد، امن اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو تشدد میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عابد عباسی نے کہا کہ تقسیم برصغیرکے منصوبے کے بعدجس کے تحت ریاستوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا گیا تھا، 19 جولائی 1947 کی قرارداد کشمیری قیادت کی طرف سے ایک تاریخی فیصلہ تھا ۔شمیم شال نے کشمیریوں کی جدوجہد اور اس مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھنے کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ بے گھر کشمیریوں کے مسائل کو حل کرے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں تقسیم کو روکنے کے لیے اتحاد پر زور دیا ۔سیمینار میں 26 اکتوبر 1947 کو الحاق کے معاہدے پر دستخط اور اس وقت بھارتی رہنماو¿ں کی طرف سے کیے گئے حق خود ارادیت کے وعدوں کو بھی اجاگرکیاگیا۔




