مدھیہ پردیش : کابینہ نے یکساں سول کوڈبل منظورکرلیا
بھوپال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی کابینہ نے یکساں سول کوڈ بل منظورکرلیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یکساں سول کوڈ بل پیر سے شروع ہونے والے مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے تحت ریاست میں صرف ایک شادی کو تسلیم کیا جائے گا، جبکہ طلاق کا عمل صرف قانونی طریقہ کار کے ذریعے ممکن ہوگا اور محض تین بار طلاق کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔انہوں نے دعوی کیا کہ یو سی سی بل تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور کسی مذہب کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل رہے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بل کے ذریعے تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کی عمر مقرر کی گئی ہے، شادیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ جائیداد میں مردوں اور خواتین کے مساوی حقوق کو یقینی بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے یو سی سی سے متعلق عوامی تجاویز حاصل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور سیاسی جماعتوں سے بھی آرا طلب کی گئیں، تاہم کانگریس نے اس معاملے پر ہونے والی سماعت سے خود کو الگ رکھا۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں یکسان سول کوڈ کا نفاذ تیزی سے عمل میں لا رہی ہیں جو مسلمانون کے لیے شدید اضطراب کا باعث ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے مسلم اداروں کا ماننا ہے کہ یکسان سول کوڈ نہ صرف شریعت کے خلاف ہے بلکہ آئین کے تحت اقلیتون کو حاصل حقوق کے بھی منافی ہے۔مسلمانون کا ماننا ہے کہ نکاح ۔طلاق ۔وراثت جیسے معاملات مین ان کے شریعی قوانین کا اطلاق ہوتا یے۔یکسان سول کوڈ کے نفاز سے یہ عمل متاثر ہو گا۔








