سید علی گیلانی: مزاحمت کی خاموش وادی کا زندہ استعارہ
ارشد میر
آج یکم ستمبر کلینڈر میں درج صرف ایک دن ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی مزاحمتی تاریخ کا عنوان ہے۔ یہ ایک ایسے کردار کی یاد کا دن جس نے اپنی پوری سیاسی زندگی ایک نظریے، ایک مؤقف اور ایک مقصد کے ساتھ وابستہ رکھی۔ سید علی شاہ گیلانی، آج کشمیری قوم ان کا پانچواں یومِ شہادت اِس عہد کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وطن عزیر کی بھارت کے جابرانہ تسلط سے آزادی کے لئے سید علی گیلانی اور دیگر لاکھوں شہدا نے نظریہ اور مزاحمت کا جو راستہ متعین کر رکھا ہے اس پر پوری استقامت کےساتھ تاحصول منزل سفر جاری رہے گا۔
سید علی گیلانی تاریخ کشمیر کے وہ چوٹی کے رہنما تھے جنہوں نے اپنی سیاست کا محور کشمیر کے حقِ خودارادیت کو بنایا، بھارت کے ساتھ الحاق کو مسترد کیا اور پاکستان سے الحاق کو اپنی سیاسی سوچ کا بنیادی جزو قرار دیا۔ ان کا معروف نعرہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” ان کے سیاسی نظریے کی سب سے مختصر مگر واضح ترجمانی بن گیا۔
گیلانیؒ کی سیاست کو صرف نعروں یا مزاحمتی سیاست کے تناظر میں دیکھنا ان کے کردار کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کی اصل شناخت ان کی نظریاتی استقامت تھی۔ وہ اختلافِ رائے، دباؤ، گرفتاری، قید، نظر بندی اور بیماری کے باوجود اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ ان کشمیری رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے کسی ایسے حل کو قبول نہیں کیا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کو نظرانداز کرے۔ حریت کانفرنس کے اندر بھی ان کا یہی مؤقف انہیں ایک نمایاں اور اصول پر مبنی سخت گیر سیاسی آواز بناتا رہا۔
ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں اور پابندیوں میں گزرا۔ متعدد مواقع پر گرفتاری اور قید کے علاوہ زندگی کے آخری دس برس بھی عملاً جسمانی آزادی سے محروم رہے۔ 2010 کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی موجودگی مستقل معمول بن گئی اور وہ برسوں گھر سے باہر نکلنے سے قاصر رہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد جب نئی دہلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی تو یہ پابندیاں مزید سخت ہوگئیں۔
اس جارحیت کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سیاسی فضا میں جو تبدیلی آئی، اس نے صرف ایک آئینی شق نہیں بدلی بلکہ سیاسی اظہار کے دائرے کو بھی مسدود کر دیا۔ وسیع پیمانے پر گرفتاریاں، مواصلاتی پابندیاں، اجتماعات پر قدغنیں اور سکڑتی ہوئی سیاسی مکانیت کہ جس میں بھارت کی اپنی سیاسی نرسری کے لوگوں پر بھی قدغنیں عائد ہوئیں، نے ایک ایسی فضا پیدا کی جسے مبصرین نے جبر اور قبرستان کی خاموشی سے تعبیر کیا۔
اسی پس منظر میں یکم ستمبر 2021 کی رات سید علی گیلانی کا انتقال ہوا۔ ظالم و باطل کی قید میں انتقال شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ سید علی گیلانی کی شہادت بھی ان کی زندگی کی طرح غیر معمولی حالات میں ہوئی۔ ان کی قوم 2019 کی آئینی جارحیت کے بعد سے ویسے بھی محصور تھی چنانچہ بھارتی قابضین نے پورے کشمیر بالخصوص سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کیں، حیدر پورہ کو سیل کیا، سڑکوں پر قابض فورسز کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا اور عوامی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام کو بھی بند کردیا۔ مگر اس انتظام کے باوجود بھارتی قابضین کے اعصاب پر اس قدر خوف سوار تھا کہ انھوں نے مرحوم رہنما کی میت کو بھی گرفتار کرلیا ۔ محمدمقبول بٹ، افضل گورو اور اشرف صحرائی سمیت متعدد کشمیری راہنماؤں اور حریت کارکنوں میں گیلانی صاحب بھی شامل ہیں جنھیں مرنے کے بعد بھی رہائی نہیں ملی۔ خوفزدہ دشمن نے ان کی میت کو بھی اس وقت تک حراست میں لئے رکھا جب تک کہ اسکے منوں مٹے تلے دفن ہونے کا اسے اطمنان نہ ہوا۔
گیلانی صاحب نے واضع طور پر وصیت کررکھی تھی کی ان کی رحلت کے بعد مزار شہداء سرینگر میں ان کی تدفین کی جائے اور اہل خانہ بھی آخری گھڑیوں میں آنکھ بھرکر ان کودیکھنے کے علاوہ ان کی وصیت کے مطابق تدفین اگلے روز مزار شہداء میں ان کے چاہنے والوں کی شرکت کے ساتھ کرنا چاہتے تھے مگر بھارتی قابضین نے اان سے میت چھین کر راتوں رات اسے مقامی قبرستان میں دفنادیا۔
عجب معاملہ ہے کہ بھارتی قابضین نے گیلانی صاحب کی میت کو گرفتار اور پھر جبرا دفنا کے سمجھا تھا کہ یہ ان کے خوف کا اختتام ہے لیکن ان کی قبر بھی ان کے لئے بدستور خوف کا سامان فراہم کررہی ہے جو ان کی یاد، نظریے اور سیاسی میراث کی علامت بن چکی ہےاور بھارتی خود کو اس کی طرف کسی کو جانے کی اجازت دینے کے متحمل نہیں سجھتے۔
اگست 2019 کی آئینی جارحیت اور پوری کشمیری قوم کو پابندیوں کی زنجیروں میں باندھنے کے بعد بھارتی حکومت اور اسکا گودی میڈیا دعوے کرتا رہا کہ حریت کانفرنس کی مزاحمتی سیاست کو شکست ہوگئی ہے، اس کا سیاسی اثر ختم اور مؤقف غیر متعلق ہو چکا مگر سید علی گیلانی نے اپنی موت سے بھی بھارت کے بیانیہ کو شکست دی۔ ا نکی میت سوال کا ترشول بن کر بھارتی قابضین کو چبھو چبھو کر یہ سوال پوچھتا رہا کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ایک بیمار اور ضعیف شخص کو برسوں گھر میں قید رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے جنازے سے خوف کیوں محسوس کیا گیا؟ اور ان کی قبر ان کے لئے اتنی حساس کیوں ہے؟
شاید یہی سوال سید علی گیلانیؒ کی سیاسی میراث کا سب سے بڑا جواب بھی ہے ۔ اگر کسی حق پسند کی وفات کے بعد بھی باطل کو اس کی قبر تک عوام کی رسائی روکنے کے لیے سڑکیں بند کرنا، سکیورٹی بڑھانا اور اجتماعات کے امکانات کو محدود کرنا پڑے تو یہ اس شخص کی شکست نہیں، فتح ہے۔یہ اسکے امر اور موثر ہونے کی علامت ہے۔
گیلانی صاحب کے انتقال کو بھی اب پانچ سال ہوگئے ہیں۔ آج کے دور میں قوموں کی زندگی میں کوئی واقع بھولنے کے لئے بھی پانچ سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر بھارتی دعوؤں کا ڈھول بھی بدستور بج رہا ہے کہ 2019 کی آئینی جارحیت کے بعد تبدیلی کا چمتکار ہوگیا، غیر معمولی امن قائم ہوگیا، حریت پسند بیانیہ اپنی موت مر گیا اور کشمیری بھارت کی طرف مائل ہوگئے ہیں مگر اسکے باوجود بھارتی قابضین نے لوگوں کو حریت کانفرنس کی اپیل پر حیدر پورہ میں گیلانی صاحب کی قبر حاضری دینے اور ان کے مشن سے وابستگی کا اظہار کرنے نہیں دیا اور پابندیاں و رکاوٹیں عائد کرکے اپنی جھوٹ کی عمارت کو گرنے سے بچالیا۔ ویسے بھی کسی کو توقع نہیں تھی بھارتی قابضین اس موقع پر لوگوں کو اپنے راہنما کی قبر پر جاکر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دینے کی جرات کریں گے۔ یہ اقدام اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے کہ سید علی گیلانیؒ کی شخصیت اور ان کا سیاسی ورثہ بھارتی انتظامیہ کے لیے آج بھی ایک حساس حوالہ ہے۔
مگر کسی نظریے کو سڑکوں پر پابندی لگا کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قدغنوں کے باوجود سید علی گیلانی کی قبر ایک زندہ نظریے، ایک نامکمل جدوجہد اور مزاحمت کی علامت ہے جس پر حاضری ایک سیاسی عہد، ایک جذباتی وابستگی اور اپنے حقِ خودارادیت سے وفاداری کے اظہار کا درجہ رکھتی ہے۔ اور یہ بھارتی قابضین کے لیے کوہِ گراں ہے۔
آج ان کی یاد منانے کا مطلب صرف ایک فرد کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ اس نظریہ کی توثیق کا بھی دن ہے جو اپنی صداقت کی پوری ایک تاریخ رکھتا ہے، جو ایک قوم کے نسلوں سے چلے آرہے رویوں اور جذبات کا امین و عکاس ہے، جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا خون ہے ، جو قانون ، اصول، اخلاقی ضابطوں سے مزین ہے اور جو دہائیوں کا امتحاں پاس کرکے ثابت کرچکا ہے کہ فوجی بندوق، طاقت، پابندی اور خاموشی کسی مسئلے کو ختم نہیں کرتیں۔وہ صرف اس کے اظہار کو کچھ عرصے کے لیے دبا سکتی ہیں۔
اسی نظریہ نے سید علی گیلانی جیسے ہمالیائی عزم و حوصلہ والے ناقابل شکست لوگ پیدا کئے جنھوں نے اپنے عمل سے ثابت کی کہ انسان کو قید کیا جا سکتا ہے، اس کی نقل و حرکت روکی جا سکتی ہے، اس کی آواز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے لیکن اگر اس کا نظریہ سچا اور یقین پختہ ہو تو اس کے نظریے کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے آج بھی حیدرپورہ کی خاموشی، خاموش نہیں ہے۔
مزاحمت ہمیشہ شور نہیں کرتی۔ کبھی وہ ایک خاموش گھر میں قید ایک بوڑھے شخص کی صورت میں پوری قوم کے ضمیر کو آواز دیتی ہے۔ ایک ایسا شخص جسے برسوں گھر میں قید رکھا گیا، موت کے بعد بھی جس کے جنازے سے خوف محسوس کیا گیا اور پانچ برس بعد بھی جس کی قبر تک عوام کی رسائی قابضین کے لئے ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے،اسے محض ایک فرد کہنا شاید تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔ سید علی گیلانیؒ ایک سیاسی کردار سے بڑھ کر ایک عہد کا استعارہ بن چکے ہیں ۔اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جبر وقت کو خاموش کر سکتا ہے، مگر عہد کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتا۔



