نئی دلی: کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک میں شدت اختیار کر گئی
بھارتی پولیس کا مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال ، متعدد افرادگرفتار اور زخمی

نئی دلی:بھارت میں مودی حکومت کے خلاف نوجوان سڑکوں پر آ گئے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک میں شدت اختیار کر گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابقنوجوانوں کی قیادت میں جاری کاکروچ جنتا پارٹی کی اپیل پر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز کے موقع پر ہزاروں طلبہ، نوجوان، خواتین اور بزرگ نئی دہلی میں جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہو گئے، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ بی بی سی اور بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، تاہم اب یہ امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کی ایک نمایاں احتجاجی تحریک بن چکی ہے۔موی حکومت نے پارلیمنٹ مارچ روکنے کے لیے دفعہ 163کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی، نئی دہلی کو متعدد سکیورٹی زونز میں تقسیم کر دیا گیا اور پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے آمدورفت محدود کر دی گئی، تاہم اس کے باوجود مظاہرین اتوار کی رات ہی سے جنتر منتر پہنچنا شروع ہو گئے۔ پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کے دوران متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے الزام عائد کیا کہ حکام نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ مظاہرین بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی نظام میں اصلاحات اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ادھر ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اکیس روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس انہیں جنتر منتر سے زبردستی صفدرجنگ ہسپتال منتقل کیا ہے۔بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے، جبکہ بنگلورو، ممبئی، گوا اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی دبا اور امتحانی بے ضابطگیوں کے باعث بی جے پی حکومت کو شدید عوامی دبا کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکے ہیں اور انہوں نے بھارتی سیاست میں بے چینی، غیر یقینی اور معاشرتی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔







