بی جے پی حکومت کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے مذموم منصوبے پرعمل پیرا ہے ، حریت کانفرنس
اقوام متحدہ سے تنازعہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے کی اپیل
سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کو علاقے میں وحشیانہ فوجی طاقت کے استعمال اور ہندو تو ایجنڈے کو فروغ دینے سے روکیں۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں جنہیں کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیریوں کے قتل، بلاجواز گرفتاری اور جبر و ستم کے دیگر ہتھکنڈوں کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کشمیریوں کی تہذبب و شناخت کو مٹانے اور علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم ایجنڈے پر بھی عمل پیرا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو مکمل طو رپر ایک فوجی چھانی میں تبدیل کر کے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ ترجماں نے کہا کہ بھارتی جبر کے خلا ف آواز اٹھانے والوں کو” پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے ” جیسے کالے قوانین کے تحت فورا سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتاہے۔۔
ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہی ایک بہترین حل موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ پوری دنیا میں امن کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ کشمیر تین ایٹمی طاقتوں پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان گھرا ہوا ہے اور ان ممالک میں دنیا کی تقریبا نصف آبادی بستی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہٹ دھرمی پر مبنی بھارتی پالیسی مسئلہ کشمیر کے حل میں بنیادی رکاوٹ ہے ، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارتی نو آبادیاتی ہتھکنڈو ں اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیلئے بھارتی قیادت پر دبائو ڈالے۔









