دہلی ہائی کورٹ نے خرم پرویز اور عرفان معران کی ضمانت پر روک لگانے کی درخواست مستردکردی

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کو کالے قانون کے تحت 2020 کے ایک جعلی مقدمے میں دی گئی ضمانت پرسٹے دینے سے انکار کر دیا ہے، تاہم ان کی رہائی کے لئے اضافی شرائط عائد کردی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اس مرحلے پر ٹرائل کورٹ کے ضمانت کے حکم کو معطل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہےجس نے پہلے ہی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تاہم ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ ضمانت کی اضافی شرائط عائد کی جائیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے جن نظیروں پر انحصار کیا گیاہے ان کا دوسرے کیسوں میں حوالہ نہ دیا جائے کیونکہ وہ ہائی کورٹ کے زیر غور ہیں۔ کیس اگست میں تفصیلی سماعت کے لیے مقررکیا گیا ہے۔18 جولائی کو پٹیالہ ہاو¿س کورٹس کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پتامبر دت نے 2020 کے ایک کیس میں خرم پرویز اورعرفان معراج کو ضمانت دی تھی۔ اس حکم سے خرم پرویزکی رہائی کی راہ ہموارہوئی جن کو دہلی ہائی کورٹ نے 2021 کے ایک اور کیس میں پہلے ہی ضمانت دے رکھی ہے۔این آئی اے نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) کے کوآرڈینیٹرخرم پرویز نومبر 2021 سے این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ انہیں ابتدائی طور پر 2021 کے یو اے پی اے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2020 کی ایف آئی آر کے سلسلے میں مارچ 2023 میں باضابطہ طور پر دوبارہ گرفتار کیا گیاجس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے آزادی پسند تنظیموں کی مدد کے لئے این جی اوز، ٹرسٹوں اور سماجی تنظیموں کے نام پر فنڈ جمع کئے ہیں۔ ۔ این آئی اے نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ خرم پرویز نے 2016 کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کو مالی مدد فراہم کی تھی۔







