بھارت نے سکھ یاتریوں کو زیرو لائن پر ارداس سے روک دیا
کرتارپور راہداری کی مسلسل بندش، سکھوں میں تشویش برقرار
چنڈی گڑھ:بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے سکھ یاتریوں کو گورداسپور کے ڈیرہ بابا نانک میں زیرو لائن تک پہنچ کر مذہبی رسومات ادا کرنے سے روک دیا گیا، جبکہ کرتارپور راہداری کی مسلسل بندش نے سکھوں کے مذہبی جذبات اور بھارت پاکستان عوامی روابط کے حوالے سے تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے پیر کو اکال تخت کے جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج کی قیادت میں سکھ جتھے کو ڈیرہ بابا نانک کی زیرو لائن تک جانے سے روک دیا، جہاں بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے سکھ یاتریوں نے کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے خصوصی ارداس کا اہتمام کیا تھا۔
جتھیدار اور سکھ یاتری بی ایس ایف کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے قریب بیٹھ گئے اور راہداری کی جلد بحالی اور بھارت پاکستان امن کے لیے ریہراس صاحب، شبد کیرتن اور ارداس کی۔ سرحد کے دوسری جانب پاکستانی سکھ سنگت نے بھی مذہبی رسومات ادا کیں۔
سکھ وفد نے زیرو لائن تک جانے کی اجازت طلب کی تھی تاکہ گوردوارہ دربار صاحب، کرتارپور سے نگر کیرتن میں شریک پاکستانی سکھ یاتریوں کو سری گرو گرنتھ صاحب کے لیے رومالا صاحب اور پنج پیاروں کے لیے سیروپے پیش کیے جا سکیں۔
گیانی گرگج نے پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آزادی کے بعد ایک لکیر کھینچ دی گئی، لیکن سکھوں کو ان مذہبی مقامات کی زیارت سے نہیں روکا جا سکتا جو سرحد کے دوسری جانب رہ گئے ہیں۔
تاہم بی ایس ایف پنجاب فرنٹیئر کے انسپکٹر جنرل اتل فولزیلے نے کہا کہ سکیورٹی پروٹوکول کے تحت یاتریوں کو حقیقی زیرو لائن تک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ واقعہ کرتارپور راہداری کی مسلسل بندش کے معاملے کو بھی ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ نومبر 2019 میں قائم کی گئی یہ ویزا فری مذہبی راہداری بھارتی علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب سے ملاتی ہے، جو سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے اور جہاں گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔
بھارتی فوجی کارروائی کے بعد مئی 2025 سے یہ راہداری ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہے، جس پر سکھ مذہبی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) نے مارچ میں ایک قرارداد کے ذریعے کرتارپور راہداری فوری طور پر کھولنے کا باضابطہ مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی مسلسل بندش سے سکھ مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
اکال تخت کے جتھیدار نے کرتارپور راہداری کی بحالی کے لیے دعائیں کرنے کی غرض سے ہر ماہ سکھ یاتریوں کے ہمراہ ڈیرہ بابا نانک جانے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے مقدس مقام تک بلا روک ٹوک رسائی کے لیے سکھ برادری کے مطالبے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔








