بہار : ہندو انتہاپسندوں کی عیسائی خاندانوں کوتبدیلی مذہب کی دھمکیاں

پٹنہ:بھارتی ریاست بہار کے ایک گائوں میں ہندو انتہاپسندوں نے عیسائی خاندانوں کو کھلے عام دھمکی دی ہے کہ وہ عیسائیت ترک کرکے ہندو مذہب اختیار کریں یا علاقہ چھوڑ دیں، جس سے اقلیتی برادری میں شدیدخوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع بھاگلپور کے گائوں گوپال پور میں ایک گاڑی پر نصب لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے 42عیسائی خاندانوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اعلانات میں انہیں معاشرے کے غدار قرار دیتے ہوئے دیگر مقامی افراد سے ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر زور دیا گیا۔
اعلانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گائوں تاریخی طور پر صرف ہندوئوں کا ہے اور آئندہ یہاں صرف ہندو ہی رہیں گے۔ عیسائیوںسے مذہب ترک کرنے یا اپنے گھر چھوڑنے کا کہاگیاہے ۔مقامی عیسائیوں کے مطابق یہ دھمکیاں ایک عرصے سے جاری تھیں تاہم حالیہ دنوں میں ان میں مزید شد آ گئی ہے۔مسیحی پادری اور انسانی حقوق کے کارکن فادر سیڈرک پرکاش نے کہا ہے کہ عیسائیوں کو مذہب ترک کرنے یا گھر چھوڑنے پر مجبور کرنا بھارت کے آئین دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔
ادھر بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق 2025 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار318واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 88فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کی اتحادی جماعتوں کے زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آئے۔







