World

موہن بھگوت کا دورہ برطانیہ :20 سے زائد تنظیموں کا آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ

 

لندن:  برطانیہ میںبھارتی تارکین وطن کی 20 سے زائد تنظیموں نے ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے ارکان پر پابندیاں عائد کرنے، برطانیہ میں موہن بھگوت کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور خطرے سے دوچار برادریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ کے دورہ برطانیہ سے ہندو انتہا پسند گروہوں کے حوصلے بلند اور معاشرے میں خوف و تقسیم بڑھ سکتی ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت بدھ سے 7 ستمبر تک برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی تارکین وطن کی تنظیموں نے برطانوی دفتر خارجہ میں مذہبی آزادی کے خصوصی ایلچی اورکن پارلیمنٹ ڈیوڈ اسمتھ اورکل جماعتی پارلیمانی گروپ کے چیئرمین اوررکن پارلیمنت جم شینن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موہن بھگوت کی تقریبات کا بائیکاٹ کریں۔تنظیموں نے دفتر خارجہ، دولتِ مشترکہ اور ترقیاتی امور (FCDO) کو بھیجے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ برطانیہ کے کثیرالثقافتی معاشرتی ڈھانچے کا تحفظ کیا جائے اور حکومت مذہبی بنیادوں پر مظالم میں آر ایس ایس کے کردار کی عوامی سطح پر مذمت کرے۔ انہوں نے آرایس ایس کے ارکان اور اس سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔خط میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کمیشن نے گزشتہ مسلسل سات سال سے اپنی سالانہ رپورٹس میں آر ایس ایس پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی کمیشن نے بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک بھی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق بھارت مذہبی آزادی کی منظم، مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ موہن بھگوت کے گزشتہ ہفتے امریکہ کے دورے سے قبل بھی USCIRF نے امریکی حکومت سے ان کا ویزا منسوخ کرنے اور مستقبل میں ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔خط میں کہا گیاکہ برطانیہ میں آرایس ایس سے لاحق خطرات حقیقی اور مسلسل ہیں۔ بھگوت کا دورہ برطانیہ میں آرایس ایس سے وابستہ تنظیموں کو نفرت پھیلانے، بھارتی تارکین وطن میں مزید تقسیم پیدا کرنے اور ملک بھر میں کمزور برادریوں کے لیے خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی ترغیب دے گا۔ موہن بھگوت کے برطانیہ کے دورے کا شیڈول خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک تقریب سے خطاب کیا تھا اور بعد ازاں کینیڈا کا دورہ کیا جہاں بھارتی تارکین وطن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ خط میں آر ایس ایس پر دنیا بھر میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ آر ایس ایس بین الاقوامی سطح پر ایسی تنظیموں کا نیٹ ورک چلاتی ہے جو فنڈز جمع کرتی ہیں اور انہیں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ خط پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں ساو¿تھ ایشیا سولیڈیریٹی گروپ، یو کے انڈین مسلم کونسل، ساو¿تھ ایشیا جسٹس کمپین، ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے، پری یار امبیڈکر اسٹڈی سرکل، انڈیا لیبر سولیڈیریٹی (یو کے)، دلت سولیڈیریٹی نیٹ ورک ،مسلم انگیجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ ،برمنگھم بلیک سسٹرز، انٹرنیشنل سولیڈیریٹی فار اکیڈمک فریڈم اِن انڈیا، جوائنٹ کمیٹی ٹو اسٹاپ ریپریشن اِن انڈیا ،مائنارٹی رائٹس گروپ، بلیک اینڈ براو¿ن رینبو، ملین ویمن رائز، اسٹرائیو یو کے، انڈین ورکرز ایسوسی ایشن ،نِجور منوش، ساو¿تھ ایشین لبریشن موومنٹ، ڈوئکائٹ کلیکٹو، تمل ویمنز آرگنائزیشن اور انڈس لیگیسی شامل ہیں۔ان تنظیموں نے لندن کے میئر صادق خان کو بھی خط لکھ کر موہن بھگوت کی تقریبات کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گریٹر لندن اتھارٹی کے زیرِ انتظام یا ملکیتی کوئی مقام ان تقریبات کے لیے فراہم نہ کیا جائے اور میئر یا اتھارٹی کا کوئی نمائندہ ان تقریبات میں خطاب نہ کرے اور نہ ہی ان کے حق میں حمایت کا پیغام بھیجے۔تنظیموں نے میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے لندن میں ان برادریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وضاحت بھی طلب کی، جنہیں عموماً آرایس ایس سے وابستہ ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نادیہ وِٹوم نے سوال اٹھایا کہ آیا موہن بھگوت کے دورے کے حوالے سے خطرے کا جائزہ لیا گیا ہے یا نہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وزیر داخلہ شبانہ محمود 3 ستمبر کو پارلیمنٹ میں اس سوال کا جواب دیں گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button