بھارت :ہندوتوا کارکن نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دلت رہنما کو چیلنج کر دیا
نئی دہلی:ہندوتوا کے سوشل میڈیا کارکن سوتنترا بھاردواج نے نئی دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی شرط کے طور پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھیم آرمی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد کو سرعام چیلنج کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے چند روز قبل بھاردواج کو اپنے مقدمے سے متعلق عوامی بیانات دینے یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روک دیا تھا۔17 ستمبر کو سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں جو بھاردواج کی رہائی کے ایک روز بعد کی ہے، وہ خود کو برہمن شیر قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں کی گاڑیوں پر مبینہ حملے کا ذکر کرتا ہے، جو اس کے مطابق جاتو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیا تھا۔بھاردواج نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو اس کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے بجائے براہِ راست اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے بیان کا رخ چندر شیکھر آزاد جو عام طور پر راون کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی طرف کرتے ہوئے انہیں براہِ راست چیلنج کیا کہ آ واور میرا سامنا کرو۔ان بیانات پر ذات پات سے متعلق حوالوں اور اشتعال انگیز لہجے کے باعث تنقید کی گئی ہے، بالخصوص اس لیے کہ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھاردواج عبوری ضمانت پر رہا ہے اور اس کی مستقل ضمانت کی درخواست ابھی زیر التوا ہے۔پٹیالہ ہاوس عدالت نے 15 ستمبر کو جنتر منتر پر 23جون کو ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران ایک طالب علم کے والد پر حملے سے متعلق مقدمے میں بھاردواج کو تین ہفتوں کی عبوری ضمانت دی تھی۔عدالت نے اسے سوشل میڈیا یا دیگر عوامی پلیٹ فارمز پر مقدمے، اپنے دفاع یا شکایت کنندہ کے خاندان کے بارے میں کوئی پوسٹ، اشاعت یا گفتگو کرنے سے روک دیا تھا اور اسے شکایت کنندہ، اس کی بیٹی یا گواہوں سے رابطہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔عدالت نے خاص طور پرکہا تھا کہ اس واقعے کا فیصلہ سوشل میڈیا کے بجائے عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔







