بھارت :پنجاب میں موٹر سائیکل سوار مسلح حملہ آوروں نے عام آدمی پارٹی کے سرپنچ کو قتل کر دیا
امرتسر: بھارتی ریاست پنجاب میں نامعلوم حملہ آوروں نے حکمران عام آدمی پارٹی سے وابستہ ایک گائوں کے سرپنچ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع ترن تارن میں حکمران اے اے پی کے سرپنچ اشونی کمار کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔مقتول اشونی کمار ضلع ترن تارن کے گائوں ٹوٹ میں اپنے کمیشن ایجنٹ کے دفتر کے قریب اپنی اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل(ایس یو وی) میں موجود تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار تین نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی۔ انہیں تشویشناک حالت میں پٹی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ان کے ڈرائیور چمکور سنگھ کو بھی گولیاں لگیں اور انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال داخل کرایا گیا ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق اشونی کمار اپنے ڈرائیور، بیٹے اور ایک ساتھی کے ہمراہ دکان سے گائوں کی اناج منڈی جا رہے تھے کہ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو روک کر انتہائی قریب سے فائرنگ کردی۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے۔
ترن تارن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریندر لامبا نے کہا کہ موٹر سائیکل سوار تین حملہ آوروں نے سرپنچ اشونی کمار پر متعدد گولیاں چلائیں۔یہ واقعہ لدھیانہ کے گائوں منے وال کے 55سالہ سابق سرپنچ کے قتل کے چند روز بعد پیش آیا ہے جنہیں ہفتے کی شام گاوں کے قریب موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ مقتول نوجیت سنگھ نیتو گمر منڈی میں واقع اپنی رہائش گاہ جا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں سرپنچوں کے مسلسل قتل کئی خطرناک عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں جن میں بھتہ خوری اور کرائے کے قتل میں ملوث گینگ نیٹ ورکس کا دوبارہ سرگرم ہونا، دیہی پنجاب میں سیاست اور جرائم پیشہ عناصر کا بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ، غیر قانونی ہتھیاروں کی آسان دستیابی اور نچلی سطح کے منتخب نمائندوں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ریاستی مشینری کی ناکامی شامل ہیں۔پولیس ایسے قتل کے واقعات کو ذاتی دشمنی اور بھارت کے اندر و باہر سے سرگرم منظم جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑتی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور ریاست میں بلدیاتی اداروں کو سیاست زدہ کرنے کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں، جہاں سرپنچ مخالف سیاسی گروہوں اور لینڈ مافیا کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔








