جموں میں موسلا دھار بارش نے 71 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
دو گھنٹوں میں 185.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ، سیلابی صورتحال سے نظامِ زندگی مفلوج
جموں: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے شہر جموں میں شدید بارش نے 71 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ صرف دو گھنٹوں میں 185.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔
شدید بارش سے کرشنا نگر، ڈوگرا ہال، بھگوتی نگر اور چھنی ہمت سمیت متعدد علاقوں کی سڑکیں زیرِ آب آ گئیں۔ پانی دکانوں اور رہائشی مکانات میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، صبح کے وقت محض دو گھنٹوں میں 185.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے اکتوبر کے مہینے میں بارش کا 71 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ بادل پھٹنے جیسی اس غیر متوقع صورتحال کے باعث پورے جموں شہر میں سیلاب آ گیا اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ شدید بارش سے معمولاتِ زندگی بھی درہم برہم ہو گئے۔
رائے پور بن تالاب میں ایک شخص تیز بہاؤ کی زد میں آ کر بہہ گیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں اس کی اہلیہ بھی نالے میں بہہ گئی، تاہم امدادی ٹیموں نے خاتون کو زندہ نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا۔
پنج تیرتھی اور سدھڑا کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پانچ گاڑیاں ملبے میں پھنس گئیں۔ حکام کے مطابق، تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
بے موسمی بارش اور تیز ہواؤں سے دھان اور مکئی کی تیار فصلوں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ خراب موسم کے باعث کٹرا سے سانجھی چھت تک ہیلی کاپٹر سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی، جس سے ہندو یاتریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر وادی کشمیر اور جموں کے بالائی و پہاڑی علاقوں میں موسم کی پہلی برف باری بھی ہوئی ہے۔






