مضامین

عید، کشمیر اور بھارتی مسلمان

"جمہوریت مہان" میں ہندوتوا کا طوفان

تحریر: ارشد میر

بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست کہلوانے پر اصرار کرتا ہے، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے دعوے اور زمینی حقائق ایک دوسرے کی مکمل طور پرنفی کرتے نظر دیتے ہیں۔ ایک طرف آئین میں مذہبی آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے ہیں تو دوسری طرف گلیوں، بازاروں، عدالتوں، اسمبلیوں اور میڈیا اسکرینوں پر ایک ایسی فضا قائم کی جا چکی ہے جہاں مسلمان ہونا گویا مستقل شک اور سزا کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وقتی سیاسی کشیدگی سے بڑھ کرایک منظم نظریاتی یلغار ہے جس کی جڑیں ہندوتوا کی اس انتہاء پسند اور فسطائی سوچ میں پیوست ہیں جو بھارت کو ایک کثیرالمذہبی، کثیرالثقافتی ریاست کے بجائے خالص ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر اس ریاستی جبر کی سب سے دردناک مثال ہے۔ عیدالفطر ہو یا عیدالاضحیٰ، جمعۃ الوداع ہو یا شبِ قدر، کشمیری مسلمانوں کے لیے ہر مذہبی موقع پابندیوں اور جبر کی نذر ہوجاتا ہے۔ بھارتی قابض افواج نے گزشتہ کئی برسوں سے عید کے اجتماعات پر قدغنیں لگانے، بڑی مساجد خصوصاً سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو بند رکھنے، حریت قیادت کو قید کرنے اور انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام معطل کرنے کو معمول بنا دیا ہے۔ یہ سیکیورٹی کے تقاضے نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی مذہبی شناخت اور اجتماعی روح کو کچلنے کی کوششیں ہیں کیونکہ "سب اچھا اور غیر معمولی امن قائم ہوچکاہے” کے بلند و بانگ دعوؤں کے بعد عید جیسے تہواروں پر بھی پابندیا ں عائد کئے جانے کو سکیورٹی کے تقاضے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ کشمیری مسلمان جب سجدے میں سر جھکانا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے بندوق کی نال کھڑی کر دی جاتی ہے۔ جب وہ عید کی خوشی منانا چاہتے ہیں تو ان کے شہروں ، قصبوں کو فوجی چھاؤنیوں میں بدل دیا جاتا ہے۔
5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد جبر کا یہ سلسلہ مزید شدید اور دراز ہو گیا۔ خوف کا ایک ایسا ماحول قائم کیا گیا جہاں مذہبی اجتماعات تک کو ریاست مخالف سرگرمی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت محدود کرنا، نقل و حرکت پر پابندیاں لگانا اور لوگوں کو اجتماعی عبادات سے روکنا اس ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے جس کا مقصد کشمیری مسلمانوں کو سیاسی، ثقافتی اور مذہبی طور پر مفلوج کرنا ہے۔
لیکن یہ داستان صرف کشمیر تک محدود نہیں رہی۔ پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور تشدد کی ایک لہر مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں گائے کے نام پر جو سیاست کررہی ہیں، اس نے بھارت کے مسلمانوں کو براہِ راست نشانہ بنا دیا۔ عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی مختلف ریاستوں میں گائے کی خرید و فروخت، نقل و حرکت اور ذبیحہ پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس ناکے، چھاپے، گرفتاریاں اور ہندو بلوائیوں کے حملے ایک معمول بن گئے ہیں۔ مسلمانوں کے مویشی بردار ٹرک روک کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بعض اوقات زندہ جلا دیا جاتا ہے، اور قاتلوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ اب تو کئی ریاستوں کے حکمران کھل کر مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کرکے انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔
عیدالاضحیٰ سے قبل گاؤ رکھشا کے نام پر نفرت اور تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ہندو انتہاء پسند تنظیموں کے جنونی کارکن جا بجا مسلمانوں کی تاک میں بیٹھ کر انھیں نشانہ بنارہے ہیں۔ اس ماحولِ نفرت کا ایک ہولناک مظہر اتوار کو آسام میں سامنے آیا جہاں ہندو جنونیوں کے ایک ہجوم نے دو مسلمان نوجوانوں کو زیر چوب قتل اور ایک کو شدید زخمی کر دیا ۔ ایسے واقعات صرف چند افراد کا جرم نہیں بلکہ اس خطرناک ذہنیت کی علامت ہیں جو مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہے۔رائٹرز اور دنیا کے دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2010 سے 2017 کے درمیان گاؤ رکھشا کے نام پر ہونے والے 63 حملوں میں 28 افراد مارے گئے جن میں 24 مسلمان تھے، جبکہ 124 زخمی کئے گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان حملوں میں سے 97 فیصد واقعات 2014 میں مودی کی قیادت میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد پیش آئے۔
مودی سرکار کی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور گاؤ رکھشا کے نام پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے نہ صرف مسلمانوں کو متاثر کیا بلکہ ان غریب ہندو تاجروں اور کسانوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا جو اپنی روزی روٹی کے لیے مویشیوں کی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔یہ المیہ صرف مذہبی آزادی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی معاش اور سماجی ہم آہنگی کا بھی سوال ہے۔ وہ ہندو تاجر اور کسان، جو برسوں سے عید الضحیٰ کے پیش نظر مویشی پال کر اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے تھے، آج قرضوں اور معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خریداروں کی تعداد میں 50 سے 70 فیصد تک کمی نے دیہی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسا کاروبار جس سے ہزاروں خاندانوں کا چولہا جلتا تھا، اب سیاسی نعروں اور مذہبی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔
ہجومی تشدد یا “ماب لنچنگ” نے بھارت کے مسلمانوں کے دلوں میں ایسا خوف بٹھا دیا ہے جس کی مثال جدید جمہوری معاشروں میں کم ہی ملتی ہے۔ کبھی کسی شخص کو صرف اس شک میں قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے، کبھی محض داڑھی اور ٹوپی جرم بن جاتی ہے۔ محمد اخلاق سے لے کر پہلو خان، تبریز انصاری اور جنید تک، کتنے ہی نام بھارت کے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان بن کر ثبت ہو چکے ہیں۔ خوفناک امر یہ ہے کہ اکثر واقعات میں قاتل یا تو ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں یا انہیں سیاسی و سماجی ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض انتہاء پسند رہنما تو کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکیاں دیتے ہیں مگر قانون ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
ہندو انتہاء پسند تنظیمیں نہ صرف مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلاتی ہیں بلکہ کھلے عام ریلیوں میں اسلحہ لہرا کر نسل کشی جیسے نعرے لگاتی ہیں۔ اس پہ مستزاد یہ کہ مودی سرکار کی “بلڈوزر سیاست” نے مسلمانوں کو اجتماعی سزا دینے کا نیا ہتھیار فراہم کردیا۔ بی جے پی کو ووٹ نہ دینے یا کسی بھی واقعے کے بعد مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو عدالتی کارروائی کے بغیر منہدم کر دینا گویا ریاستی طاقت کے ذریعے انتقام کی علامت بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب بھارت خود کو دنیا کی "مہان جمہوریہ” کہتا ہے۔
سیاسی طور پر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ بیانیہ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ ہندو اکثریت کے مذہبی جذبات کو ابھار کر ووٹ حاصل کرنا، مسلمانوں کو “دوسرا” اور “خطرہ” بنا کر پیش کرنا اور ہر انتخابی مہم میں فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینا ایک آزمودہ نسخہ بن گیا ہے۔ معاشی بحران، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی عدم مساوات جیسے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمان جتنا زیادہ خوفزدہ اور تنہا دکھائی دے، اتنا ہی ہندوتوا سیاست کا بیانیہ مضبوط ہوتا ہے۔
عدلیہ، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہے، اس پورے منظرنامے میں اکثر متنازع کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ مسلمانوں سے متعلق کئی حساس مقدمات میں عدالتوں کے فیصلوں نے واضع جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے جہاں ایک تاریخی مسجد کے انہدام کو عملاً قانونی جواز فراہم کیا، وہیں اس کے بعد دیگر مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنے کی مہم نے مزید زور پکڑا۔ گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور دیگر تاریخی عبادت گاہوں کے خلاف مقدمات دراصل اسی سوچ کا تسلسل ہیں جس کے تحت مسلمانوں کی مذہبی اور تاریخی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال محض قانونی تنازعات نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جنگ ہے۔ جب کسی مسجد میں اچانک “مندر کے آثار” تلاش کیے جاتے ہیں، جب عدالتیں ایسے مقدمات کو بار بار سماعت کے لیے منظور کرتی ہیں تو پیغام واضح ہوتا ہے: مسلمان اس سرزمین میں برابر کے شہری نہیں بلکہ مشکوک وجود ہیں جنھیں اپنی مذہبی اورتہذیبی اقدار کو ہندو تہذیب کے تابع کرنا ہوگا۔ یہی سوچ ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے جس کی وجہ سے بھارت بھر میں مسلمانوں کی عبادت گاہیں، ثقافت اور تاریخ ہر آئے روز حملوں کی ذد میں آتی اورغیر محفوظ تر ہوتی جارہی ہے۔
بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ بھی اس ماحول کو مزید زہریلا بنانے میں شریک دکھائی دیتا ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں مسلمانوں کو مستقل طور پر “دشمن”، “غدار” یا “انتہاء پسند” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نفرت انگیز زبان کو حب الوطنی کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ، افواہوں اور اشتعال انگیزی کی فیکٹریاں چل رہی ہیں جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو منظم انداز میں پھیلایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ مل کر ایک ایسے سماج کو جنم دے رہا ہے جہاں اقلیتوں کے خلاف ظلم معمول اور خاموشی قومی فریضہ بنتی جا رہی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی اقلیتوں میں شمار ہونے والے بھارتی مسلمان، جن کی تعداد کئی یورپی ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے، آج اپنے ہی وطن میں اجنبیت کا شکار ہیں۔ انہیں معاشی، سیاسی اور تعلیمی میدانوں میں مسلسل حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ شہریت کے قوانین سے لے کر تعلیمی اداروں تک، روزگار سے لے کر رہائش تک، ہر سطح پر ایک غیر مرئی مگر طاقتور دیوار کھڑی کی جا رہی ہے۔ ان کے لباس، خوراک، عبادات اور حتیٰ کہ ناموں تک کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ سب کچھ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ خود بھارت کی روح کا بحران ہے۔ جس ملک نے گاندھی، نہرو، مولانا آزاد اور امبیڈکر جیسے رہنماؤں کے خوابوں پر اپنی بنیاد رکھی تھی، وہ آج نفرت، تعصب اور اکثریتی غرور کے طوفان میں بہتا جا رہا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلاف، تنوع اور کمزور طبقات کے تحفظ کا نام ہے۔ جب ایک ریاست اپنی سب سے بڑی اقلیت کو مسلسل خوف، شک اور امتیاز میں زندہ رہنے پر مجبور کر دے تو پھر جمہوریت کا دعویٰ کھوکھلا اور سیکولرازم ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ نفرت کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر قوموں کی روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ بھارت اگر واقعی ایک متحد اور مستحکم ملک بننا چاہتا ہے تو اسے ہندوتوا کے اس انتہاء پسند بیانیے سے نجات حاصل کرنا ہوگی جو ملک کو مسلسل تقسیم، تصادم اور نفرت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ محض ایک تلخ طنز بن کر رہ جائے گااور سیکولرازم کا پرچم تاریخ کے ملبے تلے دفن ہو جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button