بھارت: مسجد کی مسماری کے بعد ”آئی لو محمد“ کے پوسٹر ملنے پرسات مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج
لکھنو:بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکام نے ضلع سنبھل میں ایک مسجد کو مسمارکرنے کے بعداحاطے سے”آئی لو محمدﷺ“کے پوسٹر اور سبز اسلامی پرچم ملنے پر سات مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقدمہ نام نہاد انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں مصطفی قادری مسجد کو مسمار کرنے کے بعد درج کیا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر تعمیرکی گئی تھی۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے اندر سے اسلامی شناخت والے سبز پرچم اور پوسٹرز ملے جن پر ”آئی لو محمد “لکھاتھا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کلدیپ سنگھ نے کہا کہ مسماری کے دوران حکام کوقابل اعتراض مواد ملاجس کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی۔تاہم مسلمان رہنماو¿ں نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ برآمد شدہ اشیاءعام مذہبی علامتیں ہیں جو مساجد اور اسلامی اداروں میں ہونا ایک معمول ہے اور ان کو قابل اعتراض قرارنہیں دیا جا سکتا۔ حکام نے دعویٰ کیاکہ مسجد قبرستان کے طور پر درج زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم مقامی باشندوں اور مساجد کے نمائندوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد کئی دہائیوں سے موجود ہے اور مقامی مسلم کمیونٹی کے زیر استعمال تھی۔اس کارروائی پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایاجاتاہے جن کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارعقیدت اوراسلامی پرچموںسمیت مسلمانوں کومذہب کی بنیادپر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رکن اسمبلی ضیاءالرحمان برق نے بھی مسماری اور اس کے بعد قانونی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ میں محمدﷺ سے محبت کرتا ہوں، اگر تم میں ہمت ہے تو مجھے پھانسی دو۔واقعے کے بعدمسلمان تنظیموں نے بھارت میں بالخصوص بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں مساجد، اسلامی علامتوں اور مذہب کے اظہار پرنشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔






