مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر میں محض ایک بارش سے اسمارٹ سٹی کے بھارتی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں محض ایک بارش سے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کے نام نہاد اسمارٹ سٹی مشن کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے کھوکھلے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بارش سے سرینگر کا ایک بڑا حصہ زیر آب آیاجس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے اور علاقے میں ناقص بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بے نقاب ہوگئی۔پیر کو ہونے والی بارش سے خانیار، سعدہ کدل، نالہ مار، راج باغ، ڈلگیٹ، بوہری کدل، جواہر نگر، بمنہ اور ریذیڈنسی روڈ سمیت کئی علاقے زیر آب آ گئے۔ سڑکوں پرپانی کے باعث مسافر گھنٹوں پھنسے رہے، ٹریفک میں خلل پڑا اور لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے بار بار پیداہونے والے مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کیا۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے سمارٹ سٹی مشن پر نئے سوالات کھڑے ہوگئے جس کے تحت سرینگر میں 2018 کے بعد خاص طور پر 2023 میں جی 20 اجلاسوں سے پہلے سڑکوں کی بحالی اور خوبصورتی پربڑی بڑی رقوم خرچ کی گئیں ۔ شہری ترقی اور پانی کی نکاسی کے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سرینگر کے باشندوں کو ہربارش کے بعد شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر نمائشی منصوبوں کو ترجیح دینے پر قابض حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ خانیار کے ایک رہائشی نے بتایاکہ بارش میں ہربار سڑکیں ڈوب جاتی ہیں۔ لوگ ایسی سڑکیں چاہتے ہیں جن سے بارش میں سیلاب نہ آئے۔ راجباغ سے آنے والے ایک مسافر نے کہا کہ بار بار آنے والے سیلاب سے ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی بے نقاب ہوئی ہے۔تازہ ترین سیلاب نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے نئی دہلی کے بلندو بانگ دعوﺅ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ لوگوںکا کہنا ہے کہ سرکاری وعدوں کے باوجود بنیادی سہولیات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button