بھارت اختلاف رائے کو دبانے اوررائے عامہ کو کنٹرول کرنے کے لیے آہنی ڈیجیٹل دیوار کھڑی کر رہا ہے

اسلام آباد: سیاسی تجزیہ کاروں اورمبصرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت اختلاف رائے اور تنقیدی آراءکو دبانے کے لیے سنسر شپ، سوشل میڈیاپلیٹ فارمز پر پابندی اور نگرانی کے جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے جمہوری ا قدارپر حملہ آورہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ جون 2026 میں مودی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت ٹیلی گرام پر ملک گیر پابندی عائد کر دی۔ 15 کروڑسے زائد بھارتیوںکے زیر استعمال پلیٹ فارم کو بلاک کر دیاگیا اور 30 جون 2026 تک میسج ایڈیٹنگ کے فیچرز پر پابندی لگا دی گئی جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ۔حکومت نے پابندی کا جواز فراہم کرنے کے لئے تقریباً 22لاکھ طلباء کے” نیٹ“ امتحان کا حوالہ دیالیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ادارہ جاتی نا کامیوں اور پرچہ لیکس معاملات کو حل کرنے کے بجائے لاکھوں صارفین کو اجتماعی طور پر سزا دی گئی۔ٹیلی گرام کو ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا اور 16سے22 جون تک یہ پلیٹ فارم بھارت بھر میں ناقابل رسائی رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت جمہوری جوابدہی کے بجائے ڈیجیٹل پابندیوں کا سہارا لے رہی ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی عارضی پابندیوں کو برقرار رکھا اوران خدشات کو تقویت پہنچائی کہ عدالتی ادارے آئینی آزادیوں کے تحفظ کے بجائے انتظامیہ کے سنسرشپ کو جائز قراردے رہے ہیں۔
دوسری طرف مودی حکومت نے فیس بک کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو کو عارضی طور پر محدود کرنے پر میٹا پر دباو¿ بڑھا یا اوراس کے ایگزیکٹور افسران کو طلب کرکے بھارت میں سرکاری احکامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات دیں۔ سرکاری ایجنسیوں نے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک کو بار بار نوٹسز، تحقیقات، اکاﺅنٹس کی بندش، مواد کے بارے میں ضابطوں پر عملدرآمد اوردیگر جابرانہ ہتھکنڈوںکے ذریعے نشانہ بنایا۔ بھارت میں نئے قوانین کے تحت حکومتی ہدایات کے بعد مواد کو تین گھنٹے کے اندر اندرہٹانالازم ہے جس سے حکام کو آن لائن معلومات کو تیزی سے دبانے کے لئے بے پناہ اختیارات مل گئے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حکومتی دباو سے 50سے85 کروڑ سے زائد وٹس ایپ صارفین، 15 کروڑ ٹیلی گرام صارفین اور کروڑوں فیس بک اور انسٹاگرام صارفین متاثر ہوئے ہیں جس سے بھارت کی سنسرشپ پالیسیاں ڈیجیٹل مواصلات پر دنیا کی سب سے بڑی پابندیوں میں شامل ہوتی ہیں۔بھارت کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے 2025 کے دوران مواد کو روکنے کے تقریباً 24,300 احکامات جاری کیے جو کہ 2024 میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 12,600 احکامات سے تقریباً دوگنا ہیںجو ریاست کی طرف سے آن لائن سنسرشپ میں ڈرامائی توسیع کی عکاسی کرتے ہیں۔ٹیلی گرام کو ہدایات پر عملدرآمد کے لئے بھارت نے دنیامیں سب سے زیادہ درخواستیں کی ہیں جبکہ سائبر سے متعلقہ تحقیقات اور پرائیویٹ ڈیجیٹل کمیونیکیشنز تک زیادہ سے زیادہ حکومتی رسائی کے مطالبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔بین الاقوامی ادارے بھارت کے بگڑتے ہوئے جمہوری ماحول کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈرز نے 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں صرف 31.96 کے اسکور کے ساتھ بھارت کو 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر رکھا اور گزشتہ سال سے چھ درجے نیچے آنے کے بعداسے”انتہائی سنگین“ زمرے میں رکھاگیا۔فریڈم ہاو¿س نے بھارت میں انٹرنیٹ کی آزادی کو 100 میں سے صرف 51 کا درجہ دیا اورملک میں انٹرنیٹ کی آزادی کو محض ”جزوی طور پر آزاد“قراردیا جو بڑھتی ہوئی سنسرشپ، نگرانی اور ڈیجیٹل اظہار پر پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ بی جے پی حکومت کا بڑھتا ہوا تصادم ڈیجیٹل آمریت کے ایک بڑھتے ہوئے ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں اختلاف رائے کی جمہوری رواداری کے بجائے ریگولیٹری دباو، پلیٹ فارمزپر پابندی، مواد کو ہٹانا اور سخت نگرانی ایک معمول بن چکا ہے۔جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بجائے مودی حکومت کی بڑھتی ہوئی سنسرشپ نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ بھارت مواصلات کو محدود کرنے، تنقید کی حوصلہ شکنی کرنے اور عوامی رائے کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک آہنی ڈیجیٹل دیوار کھڑی کر رہا ہے۔







