APHC

شہید رہنما شیخ عبدالعزیز بہادر اور تحریک آزادی کشمیر کے پرعزم رہنماء تھے

اسلام آباد:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین شیخ عبدالعزیزکشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کے نڈر،مخلص اور دیانتدار رہنما تھے جنہوں نے شہادت کو ترجیح دی لیکن اپنے مقصد پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا اورنہ بھارت کے ناجائز قبضے اوراس کی ظالمانہ پالیسیوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج شیخ عبدالعزیز کے18ویں یوم شہادت پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے وقف کررکھی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شہید رہنما جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا، اپنی آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کے لیے بے لوث جدوجہد کرتے رہے اور کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شیخ عزیز پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کے پرجوش وکیل تھے۔شیخ عزیز اور دیگر شہداء بھارت کے جابرانہ اور ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ کشمیری شیخ عزیز جیسے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ کشمیری عوام اپنے شہدا ء کی قربانیوں کو ہر چیز سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ کشمیری جانتے ہیں کہ شیخ عزیز کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو ہر قیمت پر اسکے منطقی انجام تک جاری رکھاجائے اور وہ اس حقیقی مقصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔بھارتی فوجیوں نے شیخ عبدالعزیز کو 2008میں آج ہی کے دن ضلع بارہمولہ کے علاقے اوڑی میں اس وقت شہید کر دیا تھا جب وہ جموں کے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی طرف ایک بڑے مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ہندوتوا تنظیموں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کا مقصد کشمیری آبادی کو بھوک سے مارنا تھا۔اس صورت حال نے وادی کشمیر کے عوام کے لیے غیر معمولی حالات پیدا کر دیے تھے اور کشمیریوں کو بھوک اور موت سے بچانے کے لیے شیخ عبدالعزیز اور دیگر حریت رہنما تجارت اور سفر کے لیے سرینگر-راولپنڈی روڈ کھولنے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button