14 اور 15 اگست: کشمیریوں کے لئے دو متضاد جذباتی، نظریاتی اور سیاسی کیفیات کا مظہر دن
ارشد میر
14 اور 15 اگست برصغیر کی تاریخ میں محض دو مسلسل آنے والی تاریخیں نہیں بلکہ دو مختلف قومی تصورات، تاریخی
یادداشتوں اور سیاسی بیانیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ ان دونوں دنوں کی نسبت پوری ایک (کشمیری) قوم کا موڑ، جذباتی، نظریاتی اور سیاسی کیفیات صرف ایک دن میں بدل جاتی ہیں۔ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اتنی بڑی سیاسی حقیقت ہے کہ جو دہائیوں سے ان دو دنوں کے موقعوں پہ اپنے آپ کو نمایاں کرتی ہے مگر المیہ یہ کہ چشم عالم اسکو غور سے دیکھنے سے قاصر ہے۔ ایک طرف جہاں 14 اگست کو پاکستان اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے، وہیں دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اس دن کو پاکستان کے ساتھ اپنی نظریاتی، قلبی اور تاریخی وابستگی اور تشکر کے طور پر مناتے ہیں۔ اس کے برعکس, 15 اگست کو جب بھارت اپنا یومِ آزادی مناتا ہے، تو کشمیری عوام اسے "یومِ سیاہ” اور "یومِ ماتم” کے طور پر مناتے ہیں۔
اور پھر بھارتی غاصبین کے اپنے اعمال اور سیکیورٹی کے نام پہ کئے جانے والے جنگی طرز کے اقدامات کشمیری عوام کی ان دونوں کیفیات کو درست ثابت کرتی ہیں۔
ایک طرف کل جماعتی حریت کانفرنس اور اس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے 14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے طور پر جوش و جذبے سے منانے اور 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر یومِ سیاہ منانے کی اپیل ہے، تو دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے 15 اگست کی تقریبات کے پیش نظر سکیورٹی، نگرانی، تلاشی اور پابندیوں میں اضافے کی رپورٹ ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کو یکجا کیا جائے تو کشمیر کا مسئلہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں رہتا بلکہ تاریخ، شناخت، آزادی، حقِ خودارادیت اور عوامی احساسات کے پیچیدہ سوالات کا مجموعہ بن کر سامنے آتا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ پاکستان کا یومِ آزادی 14 اگست بھرپور جوش و جذبے سے منائیں جبکہ بھارت کے یومِ آزادی 15 اگست کو یومِ سیاہ اور احتجاج کے طور پر منایا جائے۔ حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے 14 اگست کو پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی تاریخی، نظریاتی اور جذباتی وابستگی کے اظہار اور 15 اگست کو بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کا دن قرار دیا ہے۔سری نگر میں جاری بیان میں حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں یومِ آزادی منانے کا اخلاقی حق حاصل نہیں، کیونکہ گزشتہ 79 برس سے فوجی طاقت کے ذریعے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کی شناخت اور سیاسی و مذہبی تشخص تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ ادھراسلام آباد میں حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری عوام حقِ خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اجلاس میں پاکستانی عوام، سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلا، طلبہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے 14 اگست کی تقریبات میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنےکی اپیل کی گئی۔
حریت کانفرنس سے وابستہ اکائیوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ کشمیری عوام 14 اگست کو پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا محسن، وکیل اور بنیادی حمایتی ہے۔ انھوں نے 15 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال، بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور سیاہ پرچم لہرانے جبکہ بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں سے بھارتی سفارت خانوں اور دیگر مقامات کے سامنے احتجاج کی اپیل بھی کی۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پائیدار امن کے لیے اسے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اور اسکے رہنماؤں کے یہ بیانات اور مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات اس تاریخی حقیقت کے غماز ہیں کہ جموں و کشمیر کا تنازع محض جغرافیائی حدود کا معاملہ نہیں ہےبلکہ یہ لاکھوں انسانوں کے بنیادی حقوق، حقِ خودارادیت اور تشخص کی بقا کی ایک طویل اور پرعزم جنگ ہے۔
ایک طرف کشمیری قیادت اور عوام پُرامن احتجاج، ہڑتالوں اور سیاہ پرچموں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری طرف بھارتی قابض انتظامیہ ہر سال 15 اگست کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم ،جہاں بھارتی یوم آزادی کی مرکزی مگر کھوکھلی تقریب منعقد ہونی ہے، سمیت تمام حساس مقامات کو بھارتی فورسز، پیرا ملٹری اور پولیس نے مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اسٹیڈیم کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔عوام کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے ڈرونز اور کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (CCTV) کیمروں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور چوبیس گھنٹے تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔بس اسٹینڈز، ٹیکسی اسٹینڈز اور عام گزرگاہوں پر مسافروں کی تلاشی اور پوچھ گچھ نے وادی میں خوف و دہشت کی ایک فضا قائم کر رکھی ہے۔ ان تمام ہتھکنڈوں کا مقصد دراصل کشمیریوں کے احتجاجی جذبے کو کچلنا اور دنیا کی توجہ وہاں کے انسانی حقوق کے بحران سے ہٹانا ہے۔
ان رپورٹس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جموں و کشمیر میں طاقت کا استعمال اور زمینی حقائق ایک خطرناک تضاد کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہا کوئی ملک اپنے کسی جائز اور "اٹوٹ انگ” میں آزادی کی چند کھوکھلی سی تقاریب کے انعقاد کے لئے بھی دس لاکھو فوج کے ذریعہ ہفتوں پہلے کریک ڈاؤن شروع کرکے عام زندگی کو اجیرن بنا لیتا ہے؟ اگر علاقہ میں غیر معمولی امن کا چمتکار ہوچکا، حریت کے بیانیہ کو شکست ہوچکی، عسکریت کی کمر ٹوٹ چکی اور اب صرف چند درجن مجاہدین جنگلوں میں چھپتے پھر رہے ہیں تو یوم ازادی منانے کے لئے یہ جنگی طرز کا نام نہاد سیکیورٹی بندوبست کیوں؟
کشمیر کی موجودہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف جمہوری اور انسانی حقوق کے دعویدار بھارت کا ریاستی ڈھانچہ ہے جو بندوق کی نوک پر ایک خطے کو قابو میں رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف وہ مظلوم عوام ہیں جو بھارت کے دہائیوں پر محیط تمام تر ریاستی جبرکے باوجود اپنے بنیادی حقِ خودارادیت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
حریت کانفرنس کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال اور بائیکاٹ کی اپیل اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اور نظریاتی سطح پر بھارتی غاصبانہ رویہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ جب کسی علاقہ کو اپنے یومِ آزادی کی تقریبات منانے کے لیے پورے خطے میں کرفیو نما پابندیاں لگانا پڑیں، ڈرون سے نگرانی کرنی پڑے اور اسٹیڈیم کو قلعے میں تبدیل کرنا پڑے تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ علاقہ جابرانہ تسلط میں ہے اور اسکے عوام اس تسلط کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، ان کو فتح کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور علاقہ پر قبضہ کی عمارت صرف فوجی قوت کے بل بوتے پر کھڑی ہے۔
حریت کانفرنس کے بیانات اور مقبوضہ وادی کی سکیورٹی صورتحال اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی خطے اور دنیا کے امن کے لیے ایک سلگتا ہوا باب ہے۔ کشمیری عوام کا 14 اگست کو جوش و خروش سے منانا اور 15 اگست کو یومِ سیاہ قرار دینا اس بات کا اعلان ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، آزادی کا سورج طل ہو کر رہتا ہے۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی یہ بنیادی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی اور قانونی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔








