
یکم ستمبر 2021 کو تحریکِ آزادی کشمیر کا ایک ایسا روشن باب اختتام پذیر ہوا جس کی جدوجہد، استقامت اور قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ سید علی شاہ گیلانی کی وفات ایک عظیم قائد کے دنیا سے رخصت ہونے کا واقعہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک عہد کے اختتام کا لمحہ تھا۔شہید کی پانچویں برسی پر پوری کشمیری قوم اپنے عظیم قائد کو عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ یاد کر رہی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی ایک نظریے اور ایک مقصد کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کا سیاسی سفر جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر سے وابستگی کے ساتھ آگے بڑھا۔ انہوں نے اپنی فکری، سیاسی اور دعوتی جدوجہد کے ذریعے کشمیری عوام میں آزادی، حقِ خودارادیت اور اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا شعور اجاگر کیا۔بعد ازاں انہوں نے تحریکِ حریت جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی اور اس کے چیئرمین کی حیثیت سے تحریکِ آزادی کو منظم، مضبوط اور واضح نظریاتی سمت فراہم کی۔ ان کی قیادت میں تحریکِ حریت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف سیاسی اور عوامی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔سید علی گیلانی کل جماعتی حریت کانفرنس کے بھی برسہا برس تک چیئرمین رہے اورکشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی ایک مضبوط وتوانا آواز بنے رہے۔ ان کی زندگی کا ہر دور قربانی، قید و بند اور مشکلات سے عبارت رہا۔ بھارتی حکومت نے انہیں طویل عرصے تک پابندِ سلاسل رکھا، نظر بندی میں رکھا اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کیں، مگر کوئی دبا انہیں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹا سکا۔ عدالت، بڑھتی عمر اور مسلسل نظربندی بھی ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔سید علی گیلانی کا سب سے نمایاں وصف ان کی استقامت تھی۔ انہوں نے حالات کے بدلنے کے ساتھ اپنے اصول نہیں بدلے۔ ان کا یہ موقف ہمیشہ واضح رہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ان کی آواز صرف مقبوضہ جموں وکشمیر تک محدود نہیں تھی۔ وہ اقوام متحدہ، پاکستان اور دنیا بھر کے عوام، حکومتوں، پارلیمانوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول کراتے رہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو بارہا یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ محض سرحدی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے سیاسی مستقبل اور بنیادی حقوق سے متعلق ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔سید علی گیلانی کا ایک معروف نعرہ ” ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ” ان کی سیاسی سوچ اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی کی علامت بن گیا۔ ان کا یہ نظریہ آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کے لیے ایک حوصلے اور عزم کی علامت ہے۔ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نظریہ اور ان کی جدوجہد زندہ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سید علی گیلانی کی قربانیوں کو محض تقریبات اور تعزیتی بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے نظری استقامت، اصول پسندی اور حقِ خودارادیت کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔سید علی گیلانی نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ بڑے مقاصد کے لیے طویل جدوجہد، بے مثال صبر اور غیر متزلزل عزم درکار ہوتا ہے۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا نظریہ، ان کی آواز اور ان کا عزم آج بھی تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے مشعلِ راہ ہے۔پانچویں برسی کے موقع پر سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی جدوجہد کو مزید مثر بنائیں اور عالمی برادری کو یہ باور کراتے رہیں کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں اور حقِ خودارادیت کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔سید علی گیلانی کی زندگی ہمیں عزم، حوصلے اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ ان کا سفر ختم نہیں ہوا؛ ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے اور تاریخ کے صفحات پر یہ گواہی دے رہا ہے کہ حق کے لیے اٹھنے والی آواز کو دبایا تو جا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔سید علی شاہ گیلانی وہ عظیم کشمیری قائد تھے جن کی بے مثال جدوجہد کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 2020 میں اپنے اعلی ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا اللہ تعالی سید علی گیلانی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تحریکِ آزادی کشمیر کے شہدا اور قائدین کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔








