مقبوضہ جموں و کشمیر

آر ایس ایس کے یاتری بنے کارکن کشمیری مسلمان سے ‘بھارت ماتا کی جئے’ کا نعرہ لگوانے میں ناکام

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بابا بڈھا امرناتھ اور شیو کھوری کی یاترا کے دوران ہندوتوا آر ایس ایس کارکنوں نے یاتریوں کا بھیس بدل کر ایک کشمیری مسلمان کو ‘بھارت ماتا کی جئے’ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہے۔
واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں کشمیری کو واضح طور پر یہ کہتے ہوئےدکھایا گیا ہے کہ”میں مسلمان ہوں، میں یہ نہیں بول سکتا۔”ہندوتواگروہ میں شامل نکول چودھری بھی موجود ہے جوآر ایس ایس کارکن اور بجرنگ دل کا ڈویژنل تنظیمی سکریٹری ہے۔واقعے کےپہلے ویڈیو کلپ میں جب کشمیری کارکن نے انکار کیا تو ہندوتواگروہ کے رکن نے کہا:”تو کیا مسلمان ‘بھارت ماتا کی جئے’ نہیں بولے گا؟”اور اسے دھمکایا۔زورزبردستی کرنے پرموقع پر موجود ایک پولیس افسر نے مداخلت کی، تاہم آر ایس ایس کارکنوں کا رویہ تبدیل نہ ہوا۔ ایک اور ویڈیو میں انہوں نے طنز کیا:”ہندوؤں سے پیسے کما ر ہے ہو اور ‘بھارت ماتا کی جئے’ کہنے سے انکار کرتے یو؟”مسلمان کارکن بار بار درخواست کرتا رہا کہ اسے کام کرنے دیا جائے اور وہ ہندوتوانعرہ لگانے سے انکار پر ڈٹا رہا۔
واضح رہے کہ کشمیری مسلمان صدیوں سے ہندو یاتریوں کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جسے کشمیریت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا گروہوں کو یاتریوں کا بھیس بدل کر کشمیر بھیج رہی ہے تاکہ مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مسخ کیا جا سکے۔
کشمیری سیاسی جماعتوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیر کی روایات کی توہین قرار دیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button