مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر میں محکمہ صحت کے ملازمین کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہیلتھ مشن کے تحت بھرتی کیے گئے 12 ہزار سے زائد محکمہ صحت کے ملازمین نے ملازمت کی جامع پالیسی، تنخواہوں میں نظرثانی اور سماجی تحفظ کی سہولیات سمیت اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں اتوار کو پانچویں روز بھی ہڑتال اور احتجاج جاری رکھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ملازمین نے 9 ستمبر سے ہڑتال شروع کر رکھی ہے اوروہ علاقے کے مختلف ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے ملازمت کے تحفظ، پنشن اور مستقل ملازمین کے مساوی مراعات کے بغیر کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے کورونا وبا اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران بھی اہم طبی خدمات انجام دیں۔ ہڑتال کے پیش نظر محکمہ صحت نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، بلاک میڈیکل افسران اور اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں دستیاب تمام مستقل عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ او پی ڈی، آئی پی ڈی، ایمرجنسی، لیبر روم، آپریشن تھیٹر، تشخیصی خدمات، فارمیسی اور مریضوں کی دیکھ بھال سے متعلق دیگر ضروری خدمات بلا تعطل جاری رکھی جائیں۔ محکمہ صحت نے ہدایت کی ہے کہ ہڑتال کے دوران مناسب افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ڈیوٹی روسٹرز میں ضروری ردوبدل کیا جائے اور خبردار کیا کہ اگر افرادی قوت کی کمی کے باعث ضروری خدمات متاثر ہوں تو اس بارے میں ڈائریکٹوریٹ کو فوراً مطلع کیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محکمہ صحت کے ملازمین، آشا ورکرز اور دیگر پیرا میڈیکل عملہ اپنے مطالبات کے حق میں اکثر وبیشتر احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں بدستور ملازمت کے عدم تحفظ اورکم اجرتوں کا سامنا ہے، جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ان کی ملازمت کو مستقل کرنے یا ان کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button